حافظ نعیم الرحمان سے افغانستان اور ایران کے سفیروں کی ملاقات:امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے ایران اور افغانستان کے سفیروں نے اسلام آباد میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور افغان سفیر سردار احمد شکیب نے امیر العظیم کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کیا، اور مرحوم کی دینی، سیاسی اور ملی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔اور اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی کیا ۔
حافظ نعیم الرحمان سے جماعت اسلامی سیکریٹری اسلام آبادمیں ہونے والی ملاقات میںافغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے امیر العظیم کے انتقال پرگہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے مرحوم کی دینی، سیاسی اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا، ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، جبکہ سوگوار خاندان اور جماعتِ اسلامی کی قیادت و کارکنان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی۔ ملاقات میں جماعتِ اسلامی کے ڈائریکٹر امورِ خارجہ آصف لقمان قاضی بھی موجود تھے۔
اس موقع پر دوران گفتگو پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات، سرحدی تعاون، تجارت، علاقائی امن و استحکام، اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا،جبکہ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف دونوں برادر ممالک بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات پورے خطے کے امن اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور مثبت روابط خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سے ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نےبھی جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل امیر العظیم کی رحلت پر گہر رنج و غم کا اظہارکیا ۔ملاقات میں پاک ایران تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال، ایران و لبنان میں جاری امریکی و اسرائیلی جارحیت، امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، یکجہتی، باہمی احترام اور اسلامی دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔