جولائی میں تنخواہ
| | |

جولائی میں تنخواہ داروں سے 44 ارب انکم ٹیکس وصولی: ریلیف کے دعووں پر سوالیہ نشان

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دینے کے باوجود رواں مالی سال کے پہلے مہینے میں گزشتہ سال کی نسبت 2 ارب روپے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا ہے جس سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

نجی ٹی وی  کی رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں تنخواہ دار طبقے سے 44 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔

گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران یہ وصولی 42 ارب روپے ریکارڈ کی گئی تھی جو حکومت کے اعلانات پر سوالیہ نشان ہے۔

محکمہ محصولات کے حکام نے بتایا کہ 2 برس قبل جولائی 2024 میں تنخواہ دار طبقے سے صرف 30 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں رواں برس کی وصولی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس سے عام آدمی پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکس وصولی کا دائرہ کار صرف تنخواہ دار طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ جائیداد کے شعبے میں بھی سرگرمی بڑھی ہے۔ گزشتہ ماہ جائیداد کی خرید و فروخت پر 15.5 ارب روپے کا ایڈوانس انکم ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع کروایا گیا ہے جو ایک بڑی رقم ہے۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ جولائی 2026 کے دوران ملک بھر میں جائیداد کے تقریباً 90 ہزار لین دین ریکارڈ کیے گئے۔ یہ تعداد گزشتہ برس جولائی میں ہونے والے 60 ہزار لین دین کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے جس سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی کا عندیہ ملتا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ دار طبقے سے اضافی ٹیکس کی وصولی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومتی ریلیف پیکیج زمینی حقائق کے مطابق مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ انکم ٹیکس کی بلند شرح اور مہنگائی نے تنخواہ دار افراد کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے محصولات بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت جائیداد کے کاروبار پر ایڈوانس ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے، جس کے نتائج اب اعداد و شمار میں واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، تاہم تنخواہ دار طبقہ تاحال مسلسل ٹیکس بوجھ میں اضافے کا سامنا کر رہا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *