نیند میں خاتون
|

نیند میں خاتون کے منہ میں زندہ چمگادڑ جاگھسی

واشنگٹن: امریکی ریاست ورجینیا کی ایک خاتون کے ساتھ ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا جس کا تصور بھی کسی کے لیے خوفناک ہوسکتا ہے۔ دوپہر کو قیلولے کے دوران آنکھ کھلنے پر خاتون نے محسوس کیا کہ ایک زندہ چمگادڑ ان کے منہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے، جس پر وہ شدید خوفزدہ ہوگئیں۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ورجینیا کے شہر رچمنڈ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کرسٹیا ایڈلمین اپنے تقریباً 100 سال پرانے گھر میں سو رہی تھیں کہ اچانک ان کی آنکھ کھل گئی۔ بیدار ہونے کے بعد انہیں ابتدا میں یہ گمان ہوا کہ وہ شاید خواب کا حصہ دیکھ رہی ہیں، تاہم چند ہی لمحوں میں انہیں اندازہ ہوگیا کہ صورتحال حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق کرسٹیا ایڈلمین کا کہنا ہے کہ نیند کے دوران انہیں خواب آرہا تھا کہ وہ ایک انتہائی پیارے چوہے کے ساتھ موجود ہیں جو ان کے منہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ تاہم جب وہ بیدار ہوئیں تو انہیں احساس ہوا کہ خواب اور حقیقت کے درمیان فرق بہت زیادہ نہیں تھا۔

انہوں نے بتایا کہ آنکھ کھلنے کے بعد بے اختیار ان کا ہاتھ منہ تک گیا اور انہیں ایک ایسی چیز محسوس ہوئی جسے انہوں نے ابتدائی طور پر ٹشو پیپر سمجھا۔ تاہم چند لمحوں بعد جب انہوں نے اس چیز کو محسوس کیا تو صورتحال کی حقیقت ان پر آشکار ہوگئی۔

ڈاکٹر کرسٹیا ایڈلمین کے مطابق اس چیز کی پشت پر چھوٹے چھوٹے بال محسوس ہوئے جبکہ وہ خاصی موٹی بھی تھی۔ اسی لمحے انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے منہ میں موجود چیز کوئی ٹشو نہیں بلکہ چمگادڑ ہے۔ حقیقت معلوم ہوتے ہی وہ خوف کے مارے چیخنے لگیں اور بار بار کہتی رہیں کہ چمگادڑ ان کے منہ میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے۔

صورتحال سے نمٹنے کے لیے انہوں نے فوری طور پر انٹرنیٹ پر تلاش شروع کی کہ اگر چمگادڑ کسی شخص کے منہ کے قریب آجائے یا جسم سے براہ راست رابطہ ہوجائے تو کیا کرنا چاہیے۔ تلاش کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ چمگادڑ کو مارنے کے بجائے زندہ پکڑنا ضروری ہے تاکہ اس کا طبی معائنہ اور ریبیز کی جانچ کی جاسکے۔

کرسٹیا ایڈلمین نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چمگادڑ کو ایک بالٹی کے ذریعے قابو کرکے محفوظ کرلیا۔ اس کے بعد انہوں نے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

خاتون کے مطابق ان کا ایک ڈاکٹر دوست، جو عام طور پر آسانی سے پریشان نہیں ہوتا، واقعہ سن کر خاصا فکرمند ہوگیا۔ دوست کی پریشانی دیکھ کر ان کی اپنی تشویش بھی مزید بڑھ گئی اور انہوں نے فوری طور پر طبی معائنہ کرانے کا فیصلہ کیا۔

دوست کے مشورے پر کرسٹیا ایڈلمین اسی اسپتال پہنچیں جہاں وہ خود کام کرتی تھیں۔ وہاں ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور چمگادڑ کو بھی جانچ کے لیے بھجوایا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ وہ ریبیز سے متاثر تو نہیں تھی۔

خاتون کے لیے اطمینان کی بات یہ رہی کہ چمگادڑ کے طبی معائنے میں ریبیز کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تاہم واقعے کی غیر معمولی نوعیت اور اس سے حاصل ہونے والے سبق کے باعث کرسٹیا ایڈلمین نے اپنی کہانی دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ انتہائی خوفناک تھا، تاہم وہ چاہتی ہیں کہ اس واقعے سے دوسروں کو یہ سمجھنے میں مدد ملے کہ چمگادڑ کے ساتھ غیر معمولی رابطے کی صورت میں گھبرانے کے بجائے فوری طور پر مناسب طبی مشورہ لینا اور جانور کو ممکنہ جانچ کے لیے محفوظ رکھنا کیوں ضروری ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *