مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نے 2 ریاستی حل کو خطرے میں ڈال دیا‘ پاکستان

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال ایک ’’خطرناک نقطہ نظر‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے اور اسرائیلی آباد کاری، آباد کاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی نے 2 ریاستی حل کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی اقدامات کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی اور جغرافیائی حقائق کو بدلنے کی ایک منظم کوشش ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوری 2025 سے جنین، طولکرم اور نور شمس کے پناہ گزین کیمپوں سے تقریباً 40,000 فلسطینی بے گھر ہوئے، جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے نقل مکانی کا سب سے بڑا بحران ہے۔ پاکستانی مندوب نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں E1 راہداری میں 3,400 سے زائد نئے رہائشی مکانات کی منظوری اور وادی اردن میں ‘‘کرمسن تھریڈ’’ بارڈر پروجیکٹ کے ذریعے فلسطینی زمینوں پر قبضے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔پاکستان نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فلسطینی مالیاتی فنڈز کی اسرائیل کی جانب سے روک تھام، اور غزہ میں انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کریں اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *