اے آئی سے لیس مائیکرو ڈرون مچھروں کا شکار کرے گا
واشنگٹن: امریکا کی ایک نئی ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے لیس ایسے مائیکرو ڈرون کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے جو ہوا میں اڑنے والے کیڑوں، خصوصاً مچھروں کا تعاقب کرکے انہیں نشانہ بنا سکے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ثابت ہوئی تو مچھروں کے خاتمے کے موجودہ طریقوں کے مقابلے میں اخراجات میں 100 گنا تک کمی لائی جا سکتی ہے جبکہ کیمیائی اسپرے جیسے ماحول دوست نہ ہونے والے طریقوں پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
یہ منصوبہ امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی ٹورنیول (Torneul) کے انجینیئرز تیار کر رہے ہیں، جسے وائی کومبینیٹر (Y Combinator) کی مالی معاونت حاصل ہے۔ کمپنی کا مقصد ایسے چھوٹے ڈرونز تیار کرنا ہے جو شہری علاقوں میں مچھروں کو خود تلاش کرکے براہِ راست ختم کر سکیں۔
کمپنی کے شریک بانی الیکس توسان نے 14 جولائی کو ایک ویڈیو جاری کی، جس میں مائیکرو ڈرون کو پہلی مرتبہ ایک اڑتے ہوئے کیڑے کا تعاقب کرتے اور اسے فضا میں نشانہ بناتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں ڈرون ایک پتنگے کا پیچھا کرکے اسے گرا دیتا ہے۔
اگرچہ یہ تجربہ مچھر پر نہیں کیا گیا اور آزمائش بھی محدود علاقے تک رہی، یہ ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں اہم قدم ہے جو مستقبل میں مچھروں کی شناخت اور خاتمے میں مدد دے سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ڈرون الٹراسونک لہروں کا استعمال کرے گا اور متعدد مائیکروفونز کے ذریعے واپس آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرے گا۔ مچھروں کے پروں کی حرکت سے پیدا ہونے والی مخصوص ڈوپلر آواز کی مدد سے ڈرون نظریاتی طور پر مچھروں کو دیگر کیڑوں سے الگ شناخت کر سکے گا۔
ٹورنیول کے بانی الیکس توسان اور کلووس پیڈالو کا کہنا ہے کہ ان کا حتمی مقصد ایسے مائیکرو ڈرونز کا غول تیار کرنا ہے جو بڑے شہری علاقوں میں مچھروں کی آبادی کو مؤثر انداز میں کم کر سکیں۔