مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو دعائیہ کتابوں کے ساتھ عبادت کی اجازت
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی مذہبی عبادت سے متعلق طویل عرصے سے قائم پابندیوں میں مزید نرمی کردی ہے، جس کے تحت یہودی عبادت گزاروں کو پہلی مرتبہ مکمل دعائیہ کتابیں ساتھ لے جانے اور ان کے ذریعے مذہبی عبادت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو دعائیہ کتابیں ساتھ لے جانے کی اجازت حالیہ دنوں میں دی گئی، جس کے بعد بعض یہودی عبادت گزاروں کو کتابیں ہاتھ میں لیے مذہبی دعائیں کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس پیش رفت کو اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں یہودی مذہبی سرگرمیوں کے حوالے سے پالیسی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جارہا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق یہ اقدام فی الحال مکمل اور غیر مشروط اجازت کے بجائے ایک ابتدائی تجربے کے طور پر سامنے آیا ہے، اس کے باوجود فلسطینی اور مسلم حلقوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے، محدود پیمانے پر شروع کیا جانے والا یہ اقدام مستقبل میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کی مستقل مذہبی عبادت کی اجازت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کئی دہائیوں سے ایک مخصوص اسٹیٹس کو قائم ہے، جس کے تحت غیر مسلموں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوکر زیارت کی اجازت تو حاصل ہے، انہیں وہاں باقاعدہ مذہبی عبادت کرنے کی اجازت نہیں رہی۔ یہودی مذہبی عبادت کے لیے عموماً مغربی دیوار، جسے دیوار گریہ بھی کہا جاتا ہے، کا رخ کرتے ہیں، جبکہ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔
حالیہ پیش رفت سے قبل بھی یہودی زائرین کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں مذہبی رسومات ادا کرنے کی کوششوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اسرائیلی پولیس کی جانب سے انہیں بعض حدود اور پابندیوں کا سامنا رہتا تھا۔ اب مکمل دعائیہ کتابوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں لے جانے اور ان کے ذریعے عبادت کرنے کی اجازت کو انہی پابندیوں میں مزید نرمی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر طویل عرصے سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں یہودیوں کو عبادت کی اجازت دینے کے حامی رہے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر مسجد اقصیٰ کا دورہ بھی کرچکے ہیں اور وہاں یہودیوں کے مذہبی حقوق کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کے ایسے اقدامات اور بیانات پر فلسطینی قیادت، اردن اور دیگر عرب و مسلم ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔
مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کا معاملہ اس لیے بھی انتہائی حساس ہے کہ مقدس مقام کی انتظامی اور مذہبی حیثیت کئی دہائیوں سے اسرائیل، فلسطینیوں اور اردن کے درمیان ایک حساس معاملہ چلی آرہی ہے۔ مسجد اقصیٰ کے مذہبی امور کے حوالے سے اردن کے زیر نگرانی اسلامی اوقاف کا کردار ہے، جبکہ مقدس مقام کی سکیورٹی اور داخلی رسائی اسرائیلی حکام کے کنٹرول میں ہے۔
فلسطینی حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں باقاعدہ عبادت کی اجازت دینا تاریخی اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی ہے اور اس سے مقدس مقام کی مذہبی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔ فلسطینی حکام پہلے بھی خبردار کرچکے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
اردن سمیت عرب اور مسلم ممالک نے بھی مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔ عرب اور مسلم حلقوں کا مؤقف ہے کہ مقدس مقامات کی تاریخی، مذہبی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی یکطرفہ تبدیلی کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
مسجد اقصیٰ پہلے ہی اسرائیل اور فلسطین تنازع کے حساس ترین معاملات میں شامل ہے اور ماضی میں یہاں مذہبی رسومات یا رسائی سے متعلق معمولی تبدیلیاں بھی بڑے احتجاج اور کشیدگی کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ایسے میں یہودیوں کو دعائیہ کتابوں کے ساتھ باقاعدہ عبادت کی اجازت دیے جانے کو معمولی انتظامی فیصلہ نہیں سمجھا جارہا۔
حالیہ اقدام کے بعد اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ اجازت محدود تجربے تک رہتی ہے یا مستقبل میں اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اگر یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں باقاعدہ عبادت کی مستقل اجازت مل جاتی ہے تو اس سے نہ صرف مقدس مقام کی موجودہ حیثیت متاثر ہوسکتی ہے بلکہ خطے میں پہلے سے موجود مذہبی اور سیاسی کشیدگی میں بھی مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔