|

حافظ نعیم کی اپیل پرپیٹرولیم لیوی کے خلاف 7 اگست کو مزارِ قائد سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، منعم ظفر

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اعلان کیا ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جمعہ 7 اگست کو ملک بھر میں یومِ احتجاج منایا جائے گا، جبکہ کراچی میں مزارِ قائد سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ احتجاجی مہم کے سلسلے میں 6 اگست کو کراچی کے تمام اضلاع میں احتجاجی کیمپ قائم کیے جائیں گے، پندرہ سو سے زائد مقامات پر کارنر میٹنگز ہوں گی، جبکہ جے آئی یوتھ کے تحت مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ قومی وسائل پر قابض ہے جبکہ عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں،پاکستان میں دس کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام پر ’’بھتہ ٹیکس‘‘ مسلط کر رکھا ہے۔

 انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیٹرول کے ہر لیٹر پر ایک سو پچیس روپے تک لیوی وصول کی جا رہی ہے جبکہ کراچی میں بیالیس لاکھ سے زائد موٹر سائیکل سوار روزانہ اس بوجھ کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں،صرف کراچی کے موٹر سائیکل سواروں سے روزانہ تقریباً ترپن کروڑ، ماہانہ سولہ ارب اور سالانہ ایک سو بانوے ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں، اس لیے پیٹرولیم لیوی فوری ختم اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مون سون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی کے الیکٹرک کے تقریباً دو سو فیڈر ٹرپ کر گئے، جس سے شہر کے مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے،اگر شدید بارشیں ہوئیں تو نالوں کی ناقص صفائی کے باعث شہر میں بڑے پیمانے پر شہری مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایمرجنسی سروسز، ریسکیو اداروں اور تمام بلدیاتی نمائندوں کو فوری طور پر متحرک کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نالوں کی صفائی کے لیے ترپن کروڑ روپے مختص کیے گئے، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس ہے کیونکہ کئی مقامات پر نالوں سے نکالا گیا کچرا دوبارہ انہی میں ڈال دیا جاتا ہے جس سے نکاسیٔ آب کا نظام مزید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میئر کراچی میئر مرتضیٰ وہاب ٹاؤن چیئرمینوں کو اعتماد میں لینے کے لیے تیار نہیں۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ صوبائی حکومت بنیادی طبی اور بلدیاتی سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے سائیکل ایمبولینس جیسے نمائشی منصوبوں میں مصروف ہے جبکہ شہری صاف پانی، صحت، سڑکوں اور بجلی جیسے بنیادی مسائل سے دوچار ہیں، کے الیکٹرک کی نجکاری کے وقت عوام سے سستی اور بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر آج شہری بھاری بل ادا کرنے کے باوجود طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے پچاس فیصد سے زائد علاقے آج بھی صاف پانی سے محروم ہیں اور شہری مہنگے داموں ٹینکروں کے ذریعے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کے فور منصوبے، ترقیاتی کاموں میں تاخیر، کھلے گٹروں سے ہونے والے حادثات، صحت کے شعبے کی صورتحال اور شہر میں جاری تعمیراتی منصوبوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برجز شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *