موسم میں بڑی تبدیلی، محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان شمالی نصف کرے میں موسم خزاں جبکہ جنوبی نصف کرے میں بہار کا آغاز ہوتا ہے۔
نجی ٹی وی چینل ’’ جیو نیوز‘‘ کے مطابق ویسے تو حالیہ برسوں میں موسم خزاں کا دورانیہ گھٹ گیا ہے مگر پھر بھی ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان موسم خزاں کا آغاز ہوتا ہے۔
یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج شمالی سے جنوبی نصف کرے کی جانب جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12 گھنٹے کا ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔
واضح رہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے مدار میں ایک جانب جھکتی ہے جس کے نتیجے میں سال میں کچھ مواقعوں پر سورج کی روشنی اور حرارت زیادہ یا کم مقدار میں براہ راست ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے۔
دن اور رات کا دورانیہ مارچ اور ستمبر میں یکساں ہو جاتا ہے (مگر کچھ خطوں میں ایسا نہیں ہوتا)۔
زمانہ قدیم میں موسموں کا اندازہ اعتدال ربیعی، اعتدال خریفی، خط سرطان اور راس الجدی سے لگایا جاتا تھا۔
اس سال اعتدال خریفی کا آغاز 23 ستمبر کو ہوگا۔
اس کے بعد شمالی نصف کرے میں دن کا دورانیہ گھٹنے جبکہ رات کا بڑھنے لگے گا جبکہ جنوبی نصف کرے میں اس سے الٹ ہوگا۔مزیدپڑھیں:بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ