پاکستان میں استعمال
|

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں نمایاں کمی

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں گزشتہ مالی سال کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی، جس میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ ان کی مجموعی مالیت بھی پہلے کے مالی سال کے مقابلے میں کم رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں مجموعی طور پر 36 ہزار 755 استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 187.81 ملین ڈالر رہی۔

 

اس کے مقابلے میں مالی سال 2024-25 کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کا حجم زیادہ تھا۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 43 ہزار 675 استعمال شدہ گاڑیاں بیرون ملک سے پاکستان لائی گئیں، جن کی مجموعی مالیت 243.85 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔

 

اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو ایک مالی سال کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں 6 ہزار 920 گاڑیوں کی کمی ہوئی، جبکہ درآمد شدہ گاڑیوں کی مجموعی مالیت بھی 56.04 ملین ڈالر کم رہی۔

 

پاکستان میں گزشتہ مالی سال استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد مختلف مقررہ اسکیموں کے تحت کی گئی۔ ان میں ذاتی سامان، تحفہ اور منتقلیٔ رہائش کی اسکیمیں شامل ہیں، جن کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر اہل افراد کو استعمال شدہ گاڑیاں ملک میں لانے کی سہولت حاصل رہی۔

 

مالی سال 2024-25 کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال درآمدی حجم میں آنے والی کمی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں منگوانے کی سرگرمی میں مجموعی طور پر سست روی رہی۔ تعداد اور مالیت دونوں میں کمی کے باعث درآمدی شعبے میں استعمال شدہ گاڑیوں کا حصہ بھی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں محدود رہا۔

استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد میں ہونے والی یہ تبدیلی ملکی گاڑیوں کی منڈی کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ بیرون ملک سے آنے والی گاڑیاں مقامی مارکیٹ میں دستیاب گاڑیوں کے ساتھ مقابلے کا حصہ بنتی ہیں اور صارفین کو خریداری کے لیے اضافی اختیارات فراہم کرتی ہیں۔

تینوں درآمدی اسکیموں کے تحت گاڑیوں کی آمد میں مجموعی کمی کے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی گاڑیوں کی منڈی میں درآمدی اور مقامی گاڑیوں کی قیمت، طلب اور دستیابی سمیت مختلف عوامل صارفین کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *