پیٹرولیم لیوی کیخلاف چاروں صوبوں میں احتجاج، حافظ نعیم کا دھرنے جاری رکھنے اعلان
لاہور/پشاور/کوئٹہ(نمائندگان جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی کال پر جماعت اسلامی کے تحت چاروں صوبوں میں گورنرہاوسز اور پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب ہاؤس کے سامنے غیر معینہ مدت تک جاری رہنے والے تاریخی دھرنوں کا آغازکردیا گیا۔لاہور میں مال روڈ پر وزیراعلیٰ ہاؤس پنجاب کے باہر پیٹرولیم لیوی کے خلاف جاری دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی زبردستی کا بھتا اور جگا ٹیکس ہے، حکومت پیٹرول کی قیمت کے ساتھ ٹیکس بھی بڑھا دیتی ہے، عوام کا خون نچوڑنے کی بجائے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کریں۔ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنے جاری رہیں گے، حکومت نے راستہ روکنے کی کوشش کی تو دھرنے ’’حکومت گرائو تحریک‘‘ میں تبدیل ہو جائیں گے ۔ شہباز شریف اور مریم نواز کی گورننس ناکام ہوچکی، حکمرانوں نے پورے نظام کو تہس نہس کر دیا ہے۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، قائمقام سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ ، امیر پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری پنجاب وسطی بابر رشید، نائب امیر لاہور چودھری شوکت، صدر کسان بورڈ پاکستان سردار ظفر حسین خان، چودھری شوکت، ذکر اللہ مجاہد اور دیگر نے بھی دھرنے کے شرکا سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹریز شیخ عثمان فاروق ، اظہر اقبال حسن ، معاون خصوصی عمیر ادریس ، سوشل میڈیا ہیڈ سلمان شیخ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی، امیر صوبہ پنجاب جنوبی سید ذیشان اختر، امیر گوجرانوالہ مظہر اقبال رندھاوا، امیر سیالکوٹ امتیاز بریار، صدر وائے ڈی اے پنجاب شعیب نیازی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے وزرا پر مشتمل کمیٹی بنانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومتی کمیٹی کی بریفنگ نہیں چاہیے، جس نے بات کرنی ہے وہ دھرنے میں آکر ہم سے بات کرے، وزیراعظم شہباز شریف سن لیں ہم بریفنگ لینے اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، پیٹرولیم لیوی، آئی پی پیز، مہنگائی اور حکمرانوں کی عیاشیوں کے خلاف لاہور کے علاوہ کراچی اور پشاور کے گورنر ہائوسز کے باہر بھی دھرنے جاری ہیں۔ احتجاج میں عوام کی کثیر تعداد شریک ہے۔لاہور میں دھرنے کا آغاز نماز عصر کے بعد ہوا۔شدید گرمی میں عوام نے جوش و خروش کے ساتھ جماعت اسلامی کے حق میں نعرے لگائے اور حکمرانوں سے مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے مطالبات کیے۔ شرکا نے جماعت اسلامی کے پرچم اور مہنگائی کے خلاف نعروں پر مشتمل کتبے اٹھا رکھے تھے۔ دھرنے میں حافظ نعیم الرحمن کی آمد پر بھی شرکا نے بھرپور نعرے بازی کی، مال روڈ کی فضا ’’حافظ حافظ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھی جبکہ کارکنان نے پارٹی پرچم لہراتے ہوئے اپنے قائد کا استقبال کیا۔ امیر جماعت اسلامی نے خود بھی شرکا سے نعرے لگوائے اور بعد ازاں خطاب کے لیے اسٹیج پر آئے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عظیم جدوجہد کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، 7 اگست کو ملک بھر میں 510 سڑکیں بند کرکے تاریخ رقم کی، کراچی اور پشاور میں بھی تاریخی دھرنے شروع ہوچکے ہیں جبکہ لاہور کے تاریخی چوک میں عوام پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی منظم اور عوام کی حقیقی جماعت ہے، ہماری جدوجہد کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ ظلم، مہنگائی اور عوام دشمن نظام کے خلاف ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے عوام کو اذیت میں مبتلا کر دیا ہے، آج والدین اپنے بچوں کی فیسیں ادا نہیں کر پا رہے، غریبوں سے صحت کی سہولیات چھین لی گئی ہیں اور سیاستدانوں نے تعلیم کو بھی طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ مراعات یافتہ طبقہ عوام کا خون نچوڑ رہا ہے جبکہ لوٹ مار کرنے والے حکمران عوام کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پرپیٹرول کی قیمتیں بڑھا رہی ہے، پیٹرول کی قیمت الگ بڑھائی جاتی ہے اور ٹیکس الگ بڑھایا جاتا ہے۔ جن لوگوں پر ٹیکس بنتا ہی نہیں، ان سے بھی پیٹرول پر ماہانہ ہزاروں روپے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ جاگیرداروں اور وڈیروں سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ن لیگ کے کتنے جاگیرداروں نے اپنی جاگیروں پر ٹیکس ادا کیا ہے؟ جاگیردار سیاستدانوں سے سالانہ 12 ارب روپے جبکہ غریب عوام سے 700 ارب روپے وصول کیے گئے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ پیٹرولیم لیوی لگانا آئی ایم ایف کی شرط ہے، لیکن حکمران اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے حکمران اپنے اخراجات کم کریں اور مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کریں۔ پیٹرول 225 روپے فی لیٹر کیا جائے اورپیپٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو، اس کے اندر مخصوص ٹولہ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے، لیکن تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں میں بڑا فرق ہے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور کسی پارٹی کی نہیں بلکہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لیے بیٹھے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکمرانوں کے پیچھے ہٹنے تک دھرنا جاری رہے گا اور جدوجہد جاری رہے گی۔ آج ڈاکٹروں کو بھی ادائیگیاں نہیں مل رہیں، وہ سراپا احتجاج ہیں، دھرنے میں ڈاکٹرز بھی موجود ہیں، جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام سرکاری ملازمین احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اور مختلف طبقات حکمرانوں کی پالیسیوں سے تنگ آچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اپنے وزرا کو تھوڑی تعلیم دے دیں۔ پنجاب میں عوام کے پیسوں سے تشہیر کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب اور وفاق میں کرپشن کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ’’فارم 47‘‘ موجود ہیں اور عوام کے پسندیدہ نہیں ہیں۔ ہم پورے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کے لیے اور ظلم کے خلاف ہے، ہم وہ مطالبات نہیں کرتے جو پورے نہ ہوسکیں، ہمارے پاس قابل لوگ موجود ہیں جو ملک کو بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ گورنر ہاؤس کراچی اور پشاور کے باہر بھی دھرنا جاری ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں عوام اپنے حقوق کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں۔عوام اپنے حقوق کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے، جدوجہد جاری رہے گی۔دریں اثناگورنرہائوس پشاور کے سامنے دھرنے کے آغاز سے قبل دھرنا پنڈال میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا وسطی کے امیر عبدالواسع نے صوبائی نائب امیر اور دھرنے کے انچارج میاں صہیب الدین کاکاخیل کے ہمراہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ چاروں صوبوں کی طرح گورنرہاؤس پشاور کے سامنے ہونے والااحتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر جاری ظالمانہ اضافے اور پیٹرول کی فی لیٹر 120روپے سے زاید لیوی ٹیکسز کا خاتمہ نہیں کرتی جماعت اسلامی کی یہ ملک گیر احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دھرنے کے لیے ابتدائی طور پر 15دنوں کا شیڈول تیار کرلیا گیا ہے دھرنے کے پہلے روز نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ دھرنے میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ دھرنے میں خواتین،وکلا،کسانوں ، تاجروں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے وابستہ افراد کے لیے الگ الگ دنوں میں خصوصی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔جماعت اسلامی دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان سمیت صوبہ بھر کے عوام کو شرکت کی دعوت دی ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ہمارا دھرنا ہر لحاظ سے پرامن ہوگا اور اگر ہمارے احتجاج میں حکومت نے ایڈونچر یا کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر پیٹرول کم قیمت کرنے کی یہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بھی بدل سکتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پیٹرول لیوی ختم کرکے قیمت 225روپے اورآٹے بجلی گیس کی قیمتیں کم کرکے روٹی 10 روپے کی جائے۔وفاقی و صوبائی بیوروکریسی ججز جرنیلوں،وزرا اور مشیروں کی گاڑیاں 13سو سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے،مفت بجلی گیس اور تیل سمیت شاہانہ مراعات ختم کی جائیں اور عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے۔گورنر ہاؤس پشاور کے سامنے دھرنے کے لیے جماعت اسلامی نے 40فٹ لمبا موبائل اسٹیج تیار کر رکھا ہے جس پر مرکزی ،صوبائی اور ضلعی قائدین کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ پنڈال میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے دھرنے کے پہلے روز خیبرپختونخوا کے وسطی اضلاع سے ہزاروں کی تعداد میں کارکنان اور عوام الناس نے بھرپور شرکت کی۔دھرنے سے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ، صوبائی امیر عبدلواسع ، نائب امیر میاں صہیب الدین کاکاخیل،جنرل سیکرٹری صابر حسین اعوان،سابق صوبائی وزیر اور حق دو پشاور تحریک کے صدر کاشف اعظم خلیل،جماعت اسلامی یوتھ کے صوبائی صدر شاہ حسین درانی،سہیل بابر راہی،پشاور کے نائب امیر حمداللہ جان بڈھنی،چارسدہ کے امیر شاہ حسین ایڈوکیٹ، نوشہرہ کے امیر عنایت الرحمن،صوابی کے امیر مفتی مراد احمد،خیبر کے امیر شاہ فیصل آفریدی،مہمند کے امیر ملک سعید خان،مردان کے امیر غلام رسول،اقلیتی ونگ کے صوبائی صدر جاوید گل،مجیب الرحمن ایڈووکیٹ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔دھرنے میں عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے بھی شرکت کی۔
کراچی(اسٹاف رپورٹر)پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس کی ظالمانہ وصولی کے خلاف کراچی میں گورنر ہائوس پر جماعت اسلامی نے احتجاجی دھرنا دیا ، سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے روکاوٹیں کھڑی کرنے اور شیلنگ کے باوجود ہزاروں افراد گورنر ہائوس تک پہنچ گئے ، پولیس نے دھرنے کے شرکا کو روکنے اور منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی لیکن کارکنان منتشر ہونے کے بجائے عزم و حوصلے کے ساتھ کھڑے رہے ، اس دوران امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان بھی کارکنوں کے ہمراہ موجود رہے اور کارکنوں کو پر امن رہنے اور ڈٹے رہنے کی ہدایت کی ۔دھرنے کے شرکا بالخصوص نوجوانوں میں زبردست جوش و خروش اور پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس ختم کرنے کے لیے پُر جوش نعرے لگائے گئے ، منعم ظفر خان نے سندھ حکومت اور پولیس کو متنبہ کیا کہ اگر بزور قوت دھرنے کو روکنے اور تشدد کا راستہ اختیار کیا تو حالات کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عاید ہوگی ، دھرنا ہر صورت میں دیا جائے گا ۔تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس کی ظالمانہ وصولی کے خلاف اور پیٹرول کی قیمتیں فوری طور پر کم کرنے کے لیے 7اگست کے ملک گیر احتجاج کے بعد اگلے مرحلے میں اتوار16اگست کوپنجاب کے وزیر اعلیٰ ہاؤس اور سندھ ، بلوچستان و خیبر پختونخوا میں گورنر ہاؤسز پر دھرنوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ کراچی میں دھرنے کے شرکا شہر بھر سے امرا اضلاع و دیگر ذمے داران کی قیادت میں قافلوں کی صورت میں سندھ ہائی کورٹ نزدمسجد خضرا جمع ہوئے اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں پیدل مارچ کی صورت میں پریس کلب سے ہوتے ہوئے گورنر ہائوس کی طرف روانہ ہوئے ۔ منعم ظفر خان نے گورنر ہاؤس کے باہر دھرنے کے ہزاروں شرکا سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے نام پر بھاری بھرکم بھتا ٹیکس ہر صورت واپس لینا ہوگا ، آئی پی پیز کے نام پر کیا جانا والا دھندا ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ حکمران سن لیں کہ جماعت اسلامی تمہارا تعاقب جاری رکھے گی۔پورے ملک میں ہونے والے دھرنے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔ پیٹرول کی بھاری قیمتوں کے باعث ہر شہری اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں اور عام نوجوان اور طالب علم بھی روزانہ ہر لیٹر پیٹرول پر تقریباً130روپے پیٹرول لیوی بھتا ٹیکس دے رہا ہے ، جماعت اسلامی کا دھرنا ہر نوجوان ، طالب علم اور ہر شہری کے دل کی آواز اور ترجمان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز مافیا کے خلاف پورے ملک میں آواز بلند کی۔ کے الیکٹرک کے ظلم کے حوالے سے جماعت اسلامی کی قیادت نے کراچی کے عوام کو آگاہ کیا۔ جماعت اسلامی نے بتایا یہ وہ ادارے ہیں جن کے ذریعے عوام کے جیبوں پر ڈاکا ڈالا جاتا ہے ۔حکمرانوں کے ٹھاٹھ باٹھ ختم کرنے کے بجائے عوام پر ٹیکس پر ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔ فارم 47 والے حکمران اسمبلی میں بیٹھ کر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف جب وزیر اعظم نہیں تھے تو کہتے تھے کہ کراچی کو پیرس اور پانی کا مسئلہ حل کردوں گا لیکن جب وزیر اعظم بننے کے بعد کراچی آئے تو 24 سے زاید گاڑیوں کے پروٹوکول میں آئے اور چلے گئے۔ فارم 47 کے پیداوار وںکا موضوع عوامی مسائل نہیں بلکہ آپس میں فرینڈلی اپوزیشن ہے۔ جماعت اسلامی شہر کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے حقوق اور دیرینہ مسائل کا حل چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی کی تحریک اہل پاکستان کو ظلم کے نظام سے نکالنے کی تحریک ہے۔ دھرنے سے نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی ، ڈپٹی سیکرٹری کراچی عبد الرزاق خان، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق ، امیر ضلع ائر پورٹ محمد اشرف ،امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ ، امیر ضلع گلبرگ وسطی کامران سراج ، امیر ضلع سائٹ غربی ڈاکٹر نورالحق، امیرضلع کیماڑی مولانا فضل احد، امیر ضلع غربی مدثر انصاری و دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ دھرنے کے ہزاروں شرکا پر امن طور پر گورنر ہائوس کے سامنے موجود ہیں اور دھرنا جاری ہے ۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن وزیر اعلیٰ ہائوس پنجاب کے باہر دھرنے کے شرکا سے خطاب کررہے ہیں