پیپلز پارٹی سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے، رہنما پی ٹی آئی
پشاور: تحریک انصاف کے مرکزی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں چور ہیں، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے۔
پشاور میں پی ٹی آئی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ان کی صحت ریڈ لائن ہے اور صحت کے حوالے سے کسی قسم کے ہتھکنڈے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم مل کر بھی بانی پی ٹی آئی کی جماعت کو ختم نہیں کرسکی، قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، کئی ماہ گزرنے کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی جبکہ ان کی صورتحال پر کوئی سوموٹو نوٹس بھی نہیں لیا گیا۔
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے کوئی خبر سامنے آئے گی تو پوری پارٹی کو تشویش ہوگی۔ مریم نواز اور شہباز شریف کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا نوٹس لیا جائے اور انہیں فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
پی ٹی آئی ترجمان نے کہا کہ عدلیہ بھی جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہی۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات جلد سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں، امید ہے سپریم کورٹ کی جانب سے کیا گیا وعدہ پنجاب انتظامیہ کے وعدوں سے مختلف ہوگا۔
شیخ وقاص اکرم نے پنجاب میں زیرحراست دو خواتین کی ہلاکت کے معاملے پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مریم نواز کی موجودگی میں دو خواتین تھانے میں مار دی گئیں، کیا سی سی ڈی صرف غریبوں کے لیے بنائی گئی ہے؟ انہوں نے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب حکومتیں چور ہیں، جبکہ کشمیر کے انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے کو ’’اوقات یاد دلا دی‘‘۔
ججز کی تعیناتی میں سیاسی مداخلت سے متعلق شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ تحریک انصاف سیاسی مداخلت کو مسترد کرتی ہے، پی ٹی آئی پیپلز پارٹی سے مذاکرات کے حق میں نہیں اور دونوں جماعتوں کو کرپشن سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں چور ہیں۔
مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام کے ساتھ متعدد بار مذاکرات کیے ہیں اور 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر بھی جے یو آئی کا ساتھ دیا تھا، جے یو آئی کے ساتھ ایشو ٹو ایشو بات چیت ہوتی ہے۔