قائم علی شاہ کی بیٹی نہیں، ڈاکٹر نگہت کی حیثیت سے پرکھا جائے، ڈاکٹر نگہت شاہ
کراچی: سابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور ماہر امراض نسواں ڈاکٹر نگہت شاہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد جناح میڈیکل یونیورسٹی میں بطور پروفیسر مزید تین سال کی توسیع ملنے پر سوشل میڈیا میں ہونے والی تنقید اور اسے ان کے والد کے سیاسی پس منظر سے جوڑنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں قائم علی شاہ کی بیٹی کے بجائے ڈاکٹر نگہت شاہ کی حیثیت سے دیکھا اور پرکھا جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ کسی بھی شخصیت یا ادارے پر تنقید سے پہلے حقائق، خدمات اور عملی کارکردگی کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہیں خاندانی شناخت کے بجائے ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور طبی خدمات کی بنیاد پر جانچا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے جناح اسپتال کے شعبہ گائناکالوجی کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو شعبے کو وسائل، بجٹ اور اسٹاف کی شدید کمی کا سامنا تھا اور متعدد بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں تھیں،گزشتہ تین برس کے دوران شعبہ گائناکالوجی کو مرحلہ وار وسعت دی گئی اور مختلف طبی سہولیات بحال کرنے کے ساتھ نئی سہولیات بھی متعارف کرائی گئیں۔
ہائی رسک حاملہ خواتین کے لیے خصوصی سہولیات
ڈاکٹر نگہت شاہ نے بتایا کہ زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے باعث متعدد خواتین کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ ایسے مریضوں میں شدید خون بہنے، بلند فشار خون، سیپسس اور دیگر پیچیدہ طبی مسائل شامل ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے کیسز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے شعبہ گائناکالوجی میں کریٹیکل کیئر پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ خواتین ڈاکٹرز کو میڈیکل اور سرجیکل آئی سی یو میں باقاعدہ تربیت فراہم کی جاتی ہے، جس میں مریض کی پوزیشننگ، آکسیجن اور فلوئڈ مینجمنٹ، مختلف اقسام کے شاک سے نمٹنے سمیت دیگر اہم طبی امور شامل ہیں۔
ڈاکٹر نگہت شاہ کے مطابق پیچیدہ امراض قلب میں مبتلا حاملہ خواتین کے علاج کے لیے کارڈیالوجی کے ماہرین کے ساتھ تعاون بھی بڑھایا گیا ہے تاکہ ایسے حساس کیسز کو بہتر انداز میں مینج کیا جاسکے۔
انہوں نے بتایا کہ ہائی رسک ماؤں کے لیے خصوصی یونٹس بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں شوگر، خون، جگر، گردوں، دماغی امراض اور دیگر طبی پیچیدگیوں میں مبتلا خواتین کو علاج کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ میٹرنل فیٹل میڈیسن کے شعبے میں بھی تربیت یافتہ ڈاکٹرز خدمات انجام دے رہے ہیں۔
بانجھ پن کا علاج عیاشی نہیں، طبی ضرورت ہے
بانجھ پن کے علاج کے حوالے سے ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ اسے عیاشی کے بجائے ایک اہم طبی ضرورت سمجھا جانا چاہیے۔ بانجھ پن کے مسئلے میں صرف خاتون نہیں بلکہ میاں بیوی دونوں کی تشخیص اور علاج ضروری ہے، اسی لیے جوڑوں کو ایک ساتھ کلینک آنے اور بیک وقت معائنے و علاج کی ترغیب دی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ری پروڈکٹیو اینڈوکرائنولوجی، جینیٹکس، ایمبریالوجی اور اینڈرولوجی سمیت جدید شعبوں کو بھی فروغ دیا جارہا ہے جبکہ آئی وی ایف اور دیگر جدید تولیدی سہولیات کو مزید وسعت دینے پر کام جاری ہے، نجی شعبے میں موجود محدود مراکز کے مقابلے میں سرکاری اسپتال میں کم آمدن والے مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنا ایک اہم خلا کو پورا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں تربیتی پروگرامز کو ایکریڈیٹیشن دلانے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ مستقبل میں مزید ماہر ڈاکٹرز تیار کیے جاسکیں۔
ڈاکٹر ارم ماجد نے بھی توسیع کا خیرمقدم کردیا
دوسری جانب ڈاکٹر نگہت شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی جگہ ذمہ داری سنبھالنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر گائناکالوجی ڈاکٹر ارم ماجد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ڈاکٹر نگہت کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں ان کی جگہ عہدہ سنبھالنا تھا، جب انہیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو مزید تین سال کی توسیع دے دی گئی ہے تو یہ ان کے لیے بھی خوشی کی بات تھی۔
ڈاکٹر نگہت شاہ نے اپنی ٹیم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کی کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ڈاکٹروں، نرسوں، مڈوائفز اور دیگر طبی عملے کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شعبے کے ابتدائی مشکل دور میں بعض خواتین ڈاکٹرز نے محدود وسائل کے باوجود کام جاری رکھا اور کچھ عرصے تک تنخواہ نہ ملنے کے باوجود خدمت کے جذبے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں۔
’’سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘‘
سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے ڈاکٹر نگہت شاہ نے کہا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں صرف ان کے والد کے سیاسی پس منظر کی بنیاد پر نہیں پرکھا جانا چاہیے، ان کی طبی خدمات، پیشہ ورانہ کارکردگی اور شعبہ گائناکالوجی میں کیے گئے کام کو بھی سامنے رکھا جائے ’’مجھے قائم علی شاہ کی بیٹی کے بجائے ڈاکٹر نگہت کی حیثیت سے دیکھا جائے‘‘۔
ڈاکٹر نگہت شاہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی ادارے یا فرد کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے سیاسی وابستگی یا خاندانی پس منظر کے بجائے حقائق، کارکردگی اور خدمات کو بنیاد بنانا چاہیے۔