سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے لیے اہم پیش رفت
اسلام آباد: سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع میں ایک بار پھر اہم معاملہ بن گیا ہے۔ ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے قرار دیا ہے کہ معاہدہ بدستور مکمل طور پر نافذ العمل ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کرسکتا۔
مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے مقبوضہ کشمیر میں پن بجلی کے ایک منصوبے، خصوصاً رتلے پن بجلی گھر، سے متعلق کام کو محدود کرنے کے لیے عبوری اقدامات بھی جاری کیے ہیں۔
یہ پیش رفت اس تنازع کے دوران سامنے آئی ہے جس میں بھارت نے 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ’’التوا‘‘ میں رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ثالثی عدالت پہلے ہی قرار دے چکی تھی کہ بھارت کا یکطرفہ فیصلہ عدالت کے دائرہ اختیار کو متاثر نہیں کرتا۔
عدالت کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پانے والا آبی معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہے اور بھارت کے پاس اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت مغربی دریاؤں سے متعلق پانی کے استعمال اور پن بجلی منصوبوں کے لیے مخصوص شرائط موجود ہیں۔
تازہ فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر جولائی 2027 تک جائزہ لے گا کہ ہمالیائی خطے میں زیر بحث پن بجلی منصوبوں کی تعمیر سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہے یا نہیں۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق قانونی کارروائی میں پاکستان نے بھارت کے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش سمیت مختلف امور پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ مستقل ثالثی عدالت نے اس سے قبل بھی قرار دیا تھا کہ اس کے فیصلے فریقین پر حتمی اور لازم ہوتے ہیں۔
حالیہ پیش رفت پاکستان کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ عدالت نے معاہدے کی قانونی حیثیت برقرار رہنے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم مختلف پن بجلی منصوبوں کے تکنیکی معاملات اور معاہدے کی شرائط سے متعلق مزید جائزہ آئندہ کارروائی میں سامنے آئے گا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا یہ معاہدہ خطے میں طویل عرصے سے جاری آبی تعاون کا بنیادی فریم ورک ہے، جبکہ موجودہ تنازع نے اس کی قانونی حیثیت اور دونوں ممالک کے درمیان پانی کے استعمال سے متعلق اختلافات کو دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔