ساری بہاریں اللہ کے امر سے

ساری بہاریں اللہ کے امر سے ہیںاللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’خبردار! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم (امر) بھی اسی کا ہے۔ بہت بابرکت ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ (الاعراف: 54)
یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے امر کا عظیم مظہر ہے۔ یہ بلند و بالا آسمان، پھیلی ہوئی زمین، چمکتا ہوا سورج، روشن چاند، بے شمار ستارے، عظیم کہکشائیں، لہلہاتے کھیت، سرسبز درخت، رنگ برنگے پھول، خوش ذائقہ پھل، مختلف سبزیاں، بہتے ہوئے دریا، بلند پہاڑ، خوبصورت پرندے، حسین جانور اور اشرف المخلوقات انسان، سب اللہ تعالیٰ کے امر سے قائم ہیں۔ اگر اللہ کا امر نہ ہو تو نہ کوئی پھول کھلے، نہ کوئی درخت سرسبز ہو، نہ کوئی پرندہ چہکے اور نہ کوئی انسان زندہ رہ سکے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں جو روح رکھی ہے، وہ بھی اسی کے امر میں سے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وہ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے: روح میرے رب کے امر میں سے ہے۔‘‘(الاسراء : 85)
یہی روح انسان کے چہرے کی رونق ہے، آنکھوں کی چمک ہے، زبان کی مٹھاس ہے، دل کی دھڑکن ہے، جسم کی حرکت ہے اور زندگی کی ساری بہار ہے۔ انسان کی عزت، طاقت، حسن، وقار اور زندگی کی تمام رعنائیاں اسی روح کی وجہ سے ہیں۔لیکن ذرا سوچئے!جس دن اللہ تعالیٰ اپنا یہ امر، یعنی روح، واپس لے لے گا، اسی لمحے یہ خوبصورت جسم بے جان لاش بن جائے گا۔ وہی چہرہ جسے دیکھ کر لوگ خوش ہوتے تھے، چند لمحوں بعد اس سے نظریں چرانے لگتے ہیں۔ جن عزیزوں کی آنکھوں کا تارا تھا، وہ بھی کہتے ہیں، جلدی غسل دو، کفن پہنا اور قبر میں پہنچا۔ کوئی بھی اس بے جان جسم کو زیادہ دیر اپنے پاس رکھنا پسند نہیں کرتا۔یہی حقیقت انسان کو عاجزی کا سبق دیتی ہے۔ جب زندگی، حسن، طاقت، عزت اور ساری بہاریں اللہ کے امر سے ہیں، تو پھر تکبر کس بات کا؟ غرور کس چیز پر؟ عجب اور خود پسندی کیوں؟ جو نعمت ہماری اپنی نہیں بلکہ اللہ کی عطاء ہے، اس پر فخر کرنا دانشمندی نہیں۔لہٰذا ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے رب کو پہچانے، اس کی اطاعت کرے، اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور ہمیشہ عاجزی اختیار کرے۔ کیونکہ جس دن اللہ کا امر واپس چلا جائے گا، اس دن نہ مال ساتھ ہوگا، نہ منصب، نہ شہرت، نہ جسم کی خوبصورتی، صرف ایمان، نیک اعمال اور اللہ کی رحمت ہی انسان کے کام آئیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے، تکبر سے بچنے، عاجزی اختیار کرنے اور اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ،جب انسان اس حقیقت کو دل کی گہرائی سے سمجھ لیتا ہے کہ اس کی زندگی، صحت، قوت، علم، عزت، رزق اور ہر نعمت اللہ تعالیٰ کے امر سے ہے، تو اس کے دل میں اپنے رب کی عظمت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ پھر وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنتا ہے، اس کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزارنے کا عزم کرتا ہے۔ یہی ایک مومن کی حقیقی شان ہے کہ وہ اپنی ہر کامیابی کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھے، نہ کہ اپنی قابلیت، طاقت یا تدبیر کا نتیجہ۔ قرآن مجید بار بار انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں پھیلی ہوئی بے شمار نشانیاں اہلِ ایمان کے لئے غور و فکر کا سامان ہیں۔ جب انسان بہار کے موسم میں درختوں کو خشک شاخوں سے سرسبز ہوتے دیکھتا ہے، باغات کو پھولوں سے مہکتے ہوئے دیکھتا ہے، بارش کے بعد مردہ زمین کو زندہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے، تو اسے یقین آنا چاہیے کہ جس رب نے مردہ زمین کو زندگی بخشی ہے، وہی انسانوں کو بھی دوبارہ زندہ کرے گا۔ دنیا کی ہر بہار آخرت کی بہار کی یاد دلاتی ہے اور ہر خزاں انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ دنیا کی رونق ہمیشہ باقی رہنے والی نہیں۔افسوس یہ ہے کہ انسان دنیا کی عارضی نعمتوں میں ایسا مگن ہو جاتا ہے کہ نعمتیں دینے والے رب کو بھول بیٹھتا ہے۔ جب اسے دولت ملتی ہے تو وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر سمجھنے لگتا ہے، جب اسے حسن ملتا ہے تو غرور پیدا ہو جاتا ہے، جب اقتدار ملتا ہے تو ظلم پر اتر آتا ہے، اور جب علم ملتا ہے تو تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی امانت ہیں، جن کے بارے میں ایک دن ضرور سوال ہوگا۔ اگر یہ نعمتیں اللہ کے راستے میں استعمال ہوں تو باعث نجات ہیں، اور اگر انہی کے سبب انسان اللہ سے دور ہو جائے تو یہی نعمتیں وبال بن جاتی ہیں۔اس لئے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل میں یہ یقین تازہ رکھے کہ ہر سانس اللہ کی عطا ہے۔ جب تک اس کا امر ہے، دل دھڑک رہا ہے، زبان بول رہی ہے، آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور قدم چل رہے ہیں۔ جس لمحے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا، یہ تمام اعضاء اپنی حرکت کھو بیٹھیں گے۔
اس حقیقت کا شعور انسان کو غفلت سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لے جاتا ہے۔اولیائے کرام اور صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی عبادت پر کبھی فخر نہیں کرتے تھے، بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار رہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شاملِ حال نہ ہو تو کوئی عمل قبول نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے وہ ہر کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے اور ہر لغزش پر استغفار کرتے تھے۔ یہی عاجزی اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ہمیں اپنی اولاد کو بھی یہی عقیدہ سکھانا چاہیے کہ ہر کامیابی اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ امتحان میں اچھے نمبر آئیں، کاروبار میں ترقی ہو، ملازمت میں کامیابی ملے یا صحت نصیب ہو، ہر موقع پر زبان سے ’’الحمد للہ‘‘ نکلنا چاہیے۔ جو بندہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں میں مزید اضافہ فرماتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے، وہ اپنی ہی محرومی کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح ہمیں اپنی زندگی کا ہر لمحہ قیمتی سمجھنا چاہیے، کیونکہ معلوم نہیں کب اللہ تعالیٰ اپنی دی ہوئی مہلت ختم کر دے۔ آج جو انسان اپنے قدموں پر چل رہا ہے، ممکن ہے کل دوسروں کے کندھوں پر اٹھایا جا رہا ہو۔ آج جو اپنی زبان سے دوسروں کو نصیحت کر رہا ہے، ممکن ہے کل اس کی زبان خاموش ہو جائے۔ اس لئے عقل مند وہی ہے جو زندگی کی مہلت کو غنیمت جان کر توبہ کرے، نیک اعمال میں اضافہ کرے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرے اور اپنے رب سے مضبوط تعلق قائم کرے، ہمیں ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو ایمان پر ثابت قدم رکھے، ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تکبر، غرور، ریاکاری اور خود پسندی سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی سعادت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے خاتمے کو ایمان، تقوی اور حسنِ عمل پر فرمائے، ہماری قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، اور قیامت کے دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔ بے شک وہی ہر دعا کو سننے والا، ہر حاجت کو پورا کرنے والا اور اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔آمین یا رب العالمین۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *