| |

سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو، ورنہ نیوکلیئر ڈیل نہیں ہوگی،ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ جوہری تعاون کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ریاض اس معاہدے کا حصہ نہیں بنتا تو امریکا کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل نہیں ہوسکے گی۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون سے متعلق امریکی پالیسی پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا چاہیے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے پر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔

صدر ٹرمپ سے ایران کی موجودہ صورتحال اور تہران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایرانی حکام مذاکرات میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ایران ہر گزرتے دن کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر مزید سنجیدہ ہوتا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی منظوری دی تھی، تاہم اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی۔

اس سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں مجوزہ سعودی امریکی سول جوہری معاہدے کی بعض شرائط بھی واضح کی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ پروگرام کے تحت یورینیم کی افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جوہری تعاون کو صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد تک محدود رکھا جائے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *