سبزیوں سے صحت اپنی جگہ، ماہرین نے کچھ سبز غذاؤں کے نقصانات بھی بتا دیے
سبزیاں اور پھل متوازن غذا کا اہم حصہ ہیں، لیکن ہر سبز رنگ کی غذا لازماً صحت بخش نہیں ہوتی۔ بعض کچی، کم پکی یا مصنوعی سبز غذائیں مخصوص افراد میں صحت کے مسائل پیدا کرسکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو کچھ غذاؤں سے الرجی، غذائی تعامل یا زہریلے اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سبز آلو، بعض سبز سمندری غذائیں اور مصنوعی سبز رنگ والی اشیا اس حوالے سے احتیاط کا تقاضا کرتی ہیں۔
پالک بھی کچھ افراد میں الرجی پیدا کرسکتی ہے۔ اس کے استعمال سے معمولی جلدی علامات سے لے کر شدید الرجک ردعمل تک سامنے آسکتا ہے، اس لیے علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اسی طرح آئی بی ایس کے مریضوں کے لیے گوبھی، بروکولی اور برسلز اسپراؤٹس مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔ ان سبزیوں سے بعض افراد کو گیس، پیٹ پھولنے، سوزش اور درد کی شکایت ہوسکتی ہے۔
گردوں کے مریضوں کو بھی سبز غذاؤں کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہیے۔ پالک اور سوئس چارڈ میں پوٹاشیم زیادہ ہوتا ہے، جس کی زیادتی گردوں کے مریضوں میں الیکٹرولائٹ عدم توازن پیدا کرسکتی ہے۔
دوسری جانب کچی سبزیوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ بعض افراد کو قبض، پیٹ درد، سوزش اور اپھارے کی شکایت ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ حالات میں گردے کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
وارفن، جسے کوماڈین بھی کہا جاتا ہے، استعمال کرنے والے افراد کو وٹامن کے والی سبزیوں کی مقدار پر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔ وٹامن کے اس دوا کے خون پتلا کرنے والے اثر کو متاثر کرسکتا ہے۔
پالک، سوئس چارڈ اور چقندر میں آکسیلیٹ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ گردے کی پتھری کے مریضوں میں ان غذاؤں کا زیادہ استعمال بعض صورتوں میں پتھری دوبارہ بننے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
کچی یا کم پکی سبزیوں میں سیلولوز اور ناقابل ہضم فائبر کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گوبھی، بروکولی اور برسلز اسپراؤٹس کچھ لوگوں کے لیے ہضم کرنا مشکل ثابت ہوسکتے ہیں۔
سبز آلو بھی خاص احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان میں سولانین کی مقدار بڑھ سکتی ہے، جو زیادہ مقدار میں متلی، قے اور بعض اعصابی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
سبز چائے بھی ہر شخص کے لیے یکساں محفوظ نہیں۔ غیر معیاری یا بہت زیادہ گرم چائے معدے کو متاثر کرسکتی ہے، جبکہ کیفین کی زیادتی گھبراہٹ اور کپکپاہٹ پیدا کرسکتی ہے۔
اسی طرح سبز کینڈیز اور میٹھے مشروبات کو صرف رنگ کی وجہ سے صحت بخش نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان میں زیادہ چینی اور مصنوعی اجزا دانتوں اور خون میں شکر کی سطح کو متاثر کرسکتے ہیں۔
لہٰذا کسی غذا کا سبز ہونا اس کے صحت بخش ہونے کی ضمانت نہیں۔ مقدار، تیاری کا طریقہ اور فرد کی صحت سب اہم ہیں، خاص طور پر الرجی، آئی بی ایس، گردوں کے امراض یا مخصوص ادویات لینے والوں کے لیے۔