قوتِ مدافعت کیسے مضبوط کریں؟ کریلے کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں
مون سون کا موسم گرمی کی شدت کم کرنے اور موسم کو خوشگوار بنانے کے ساتھ کئی طبی مسائل بھی اپنے ساتھ لاسکتا ہے۔
برسات کے دوران بڑھنے والی نمی اور آلودہ پانی یا خوراک کے باعث مختلف انفیکشنز اور موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے اس عرصے میں صفائی کے ساتھ متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک پر توجہ دینا اہم سمجھا جاتا ہے۔
کریلا ایسی ہی سبزیوں میں شامل ہے جو متعدد اہم غذائی اجزا فراہم کرتی ہے۔ اپنے مخصوص کڑوے ذائقے کے باعث اگرچہ بہت سے افراد اسے پسند نہیں کرتے، تاہم اس میں وٹامن سی سمیت مختلف وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹ مرکبات پائے جاتے ہیں۔
یہ غذائی اجزا جسم کے معمول کے مدافعتی نظام کو سہارا دینے اور فری ریڈیکلز کے باعث ہونے والے آکسیڈیٹو نقصان سے خلیات کے تحفظ میں کردار ادا کرتے ہیں۔
برسات کے موسم میں صرف کسی ایک سبزی پر انحصار کرنے کے بجائے کریلے کو متوازن غذا کے ایک حصے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مناسب غذائیت جسم کے دفاعی نظام کے معمول کے افعال برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، تاہم کریلا نزلہ، زکام، بخار یا کسی انفیکشن کے علاج یا ان سے یقینی تحفظ کا متبادل نہیں ہے۔
کریلے پر خون میں شوگر کی سطح سے متعلق بھی تحقیق کی گئی ہے اور بعض مطالعات میں اس کے ممکنہ اثرات سامنے آئے ہیں، تاہم ذیابیطس کے مریض اسے دوا کا متبادل نہ سمجھیں۔ بالخصوص شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کو کریلا یا اس کا جوس زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
کریلے کی کڑواہٹ پسند نہ کرنے والے افراد اسے مختلف طریقوں سے اپنی غذا میں شامل کرسکتے ہیں۔ اسے قیمے، گوشت، دال یا دوسری سبزیوں کے ساتھ پکانے سے ذائقے کی تلخی نسبتاً کم کی جاسکتی ہے۔
مون سون میں صحت مند رہنے کے لیے متوازن غذا کے ساتھ صاف پانی کا استعمال، کھانے پینے کی اشیا کی مناسب صفائی، ہاتھ دھونے کی عادت اور جسمانی سرگرمی بھی اہم ہے۔ کریلے سمیت مختلف سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل متوازن خوراک جسم کو ضروری غذائی اجزا فراہم کرکے مجموعی صحت اور مدافعتی نظام کے معمول کے افعال برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔