سپریم لیڈر سے 8 گھنٹے ملاقات ہوئی، ایرانی صدر نے قیاس آرائیوں پر تفصیلات بتا دیں
تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں پر صدر مسعود پزشکیان نے اہم بیان جاری کردیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی صدر نے انہیں مکمل صحت مند قرار دیتے ہوئے صحت سے متعلق خدشات کو مسترد کردیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’اسنا‘ کے مطابق مسعود پزشکیان نے بتایا کہ ان کی حال ہی میں مجتبیٰ خامنہ ای سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔ دونوں شخصیات کے درمیان تقریباً 7 سے 8 گھنٹے تک گفتگو جاری رہی۔
ایرانی صدر نے کہا کہ کئی گھنٹوں تک مسلسل بیٹھ کر گفتگو کرنے والا شخص صحت کے سنگین مسائل کا شکار نہیں ہوسکتا۔ ان کا یہ بیان سپریم لیڈر کی صحت کے بارے میں جاری قیاس آرائیوں کے جواب میں سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے والد کی جگہ سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر زیادہ نظر نہیں آئے۔ اسی وجہ سے ان کی صحت کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی ہیں۔
دوسری جانب اتوار کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے ایک ویڈیو جاری کی تھی۔ ویڈیو میں مجتبیٰ خامنہ ای ایک وفد سے گفتگو کرتے دکھائی دیے اور بظاہر صحت مند نظر آئے۔
تاہم ویڈیو کی تاریخ اور مقام واضح نہ ہونے کے باعث شکوک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اسی دوران اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
ان دعوؤں کے بعد ایرانی صدر کی جانب سے سپریم لیڈر سے ملاقات کی تفصیلات سامنے آئیں۔ مسعود پزشکیان کے بیان نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے حوالے سے جاری ابہام کو بڑی حد تک دور کردیا ہے۔