مودی سرکار کے زیر سایہ بھارت میں مسلمانوں کی شناخت مٹانے کا سلسلہ جاری
نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار کی سرپرستی میں انتہاپسند ہندو تنظیمیں منظم طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے اقلیتوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور سیکولر بھارت کے دعوے بے نقاب ہو رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ریاستی پشت پناہی کے باعث انتہاپسند گروہ مسلمانوں کیخلاف مظالم میں آزاد ہیں، جہاں مذہبی مقامات کی مسماری اور عبادت میں رکاوٹیں کھڑی کرنا معمول بن چکا ہے۔
یہ افسوس ناک صورتحال ملک میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق کو سنگین خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔
حال ہی میں بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں انتہاپسند ہندو تنظیم بجرنگ دل نے مسلمانوں کی قبروں کو بے دردی سے مسمار کر دیا۔ اس افسوسناک واقعے کے دوران انتہاپسندوں نے مبینہ طور پر ڈھول بجا کر خوشی کا اظہار کیا اور اسے لینڈ جہاد کا نام دیا گیا۔
علاوہ ازیں دارالحکومت دہلی کے علاقے منڈاولی میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں ہندو انتہاپسند تنظیم رکشا دل کے کارندوں نے مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے جبراً روک دیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مذہبی آزادی پر براہِ راست کاری ضرب ہے جس نے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔
رکشا دل کے کارکنوں نے دھمکی دی کہ اب کوئی مسلمان نہ تو نماز پڑھ سکے گا اور نہ ہی گلیوں میں نکلنے کی جرات کرے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے جینے اور عبادت کرنے کے حق کو ریاستی جبر کے ذریعے سلب کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں انتہاپسندوں کو حاصل استثنیٰ اور حکومتی خاموشی نے مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ کر دی ہے۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور بھارت کے اپنے آئینی دعووں کے سراسر منافی ہیں۔
موجودہ حکومتی پالیسیوں کے باعث بھارت میں مذہبی ہم آہنگی کے بجائے نفرت کا زہر پھیلایا جا رہا ہے۔ اگر حکام نے ان انتہاپسند تنظیموں کی حوصلہ شکنی نہ کی تو یہ صورتحال خطے کے امن و استحکام کے لیے مزید بڑے خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔