|

یومِ استحصال اور فاروق عبداللہ کا چشم کشا انکشاف!

5 اگست 2019ء وہ تاریخ ہے جس دن بھارت نے نہ صرف آئین کی دھجیاں اڑائیں بلکہ کشمیریوں کے 70سالہ ریاستی تشخص کو بھی کچل ڈالا۔ اس دن مودی سرکار نے یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35Aکو منسوخ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ یہ محض ایک آئینی ترمیم نہیں تھی، یہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ اور مستقبل پر حملہ تھا۔6سال گزر گئے، لیکن کشمیریوں کا زخم آج بھی تازہ ہے۔ اسی لئے ہر سال 5اگست کو پوری دنیا میں ’’یومِ استحصال‘‘منایا جاتا ہے۔ یہ دن احتجاج کا دن ہے، یاددہانی کا دن ہے اور دنیا کو یہ بتانے کا دن ہے کہ کشمیر کا مسئلہ زندہ ہے اور اسے طاقت سے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت نے 2019ء میں جو کیا وہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ استصوابِ رائے سے ہونا ہے۔ لیکن مودی حکومت نے بندوق کے زور پر اسے بھارت کا “مرکزی زیر انتظام علاقہ” بنا دیا۔اس اقدام کے ساتھ ہی وادی کو دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ انٹرنیٹ بند، لیڈرشپ جیلوں میں، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ مقصد واضح تھا کہ کشمیریوں کو ڈرا کر، گھٹن میں رکھ کر ان کی مزاحمت توڑ دی جائے۔ اس کے بعد آبادی کا تناسب بدلنے کے لئے ’’ڈومیسائل قوانین‘‘لائے گئے۔ باہر سے لوگوں کو لا کر زمینیں اور نوکریاں دی گئیں تاکہ کشمیری اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بن جائیں۔یہ ’’ریاستی تشخص کی منسوخی‘‘نہیں تھی، یہ ایک قوم کے وجود کو مٹانے کی سازش تھی۔ یہ دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ 2019ء کا اقدام ناجائز تھا اور آج بھی ناجائز ہے۔ جب میڈیا اور سفارتکاری اس مسئلے کو بھولنے لگتی ہے تو 5 اگست ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم دوبارہ سوال اٹھائیں۔ یہ مقبوضہ وادی میں بند کشمیریوں کے لئے حوصلے کا پیغام ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام آباد، لندن، نیویارک اور جدہ میں ان کے لیے آواز اٹھ رہی ہے تو انہیں لگتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔ یہ پاکستان اور امتِ مسلمہ کا اجتماعی عہد ہے کہ ہم کشمیر کاز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جب تک مسئلہ حل نہیں ہوتا، ہم ہر فورم پر اسے زندہ رکھیں گے۔
مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد کے خلاف یوم استحصال کا پیغام یہ ہے کہ تمام دنیا میں بسنے والے کشمیری اور انصاف پسند حلقے مودی سرکار کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف متحد ہیں۔ اس تناظر میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کا حالیہ بیان انتہائی اہم ہے۔ کلگام میں چند روز قبل ہونے والے قتل عام پر انہوں نے کھل کر مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں ہے۔ فاروق عبداللہ خود برسوں تک بھارت کے نظام کا حصہ رہے ہیں۔ جب ان جیسا شخص یہ کہے کہ ’’یہ قتل عام ریاستی سرپرستی میں ہو رہا ہے‘‘تو اس کا مطلب ہے کہ مقبوضہ وادی میں ریاستی تشدد اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔2019 ء کے بعد سے بھارت نے وادی کو ایک کھلی جیل بنا دیا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سرچ آپریشن، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کی شہادت، صحافیوں اور وکلاء پر مقدمے، اور اب کلگام جیسے قتل عام۔ یہ سب ایک ہی پالیسی کا حصہ ہیں: خوف کے ذریعے مزاحمت کو کچلنا۔فاروق عبداللہ کا مودی سرکار پر الزام لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا بیانیہ ’’سب کچھ نارمل ہے‘‘مکمل طور پر جھوٹا ہے۔ اگر نارمل ہوتا تو کوئی سابق وزیراعلیٰ اپنی ہی حکومت پر قتل کا الزام نہ لگاتا۔کشمیر کا مسئلہ صرف سرحدوں کا تنازعہ نہیں ہے۔ یہ 2 کروڑ 30 لاکھ انسانوں کے بنیادی حقوق کا مسئلہ ہے۔ 2019ء کے بعد بھارت نے جو کیا اس سے 3 چیزیں واضح ہو گئیں۔اول، تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی، لیڈروں کی نظر بندی۔ جمہوریت کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔دوم ، کشمیریوں کی زمینیں، معدنیات اور کاروبار باہر کے لوگوں کے حوالے کر کے مقامی معیشت تباہ کی جائے۔ سوم، پیلٹ گن، گرفتاریاں، میڈیا سنسرشپ اور اب کھلے عام قتل کے ذریعے کشمیری عوام کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس پس منظر میں پاکستان اور عالمی برادری کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
ہمیں یومِ استحصال کو صرف ایک دن کی رسمی کاروائی بنانے کے بجائے ایک تحریک بنانا ہے۔اقوام متحدہ کو یاد دلانا ہے کہ اس نے کشمیر کے لیے استصوابِ رائے کا وعدہ کیا تھا۔ او آئی سی کو متحرک کرنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو کلگام جیسے واقعات پر بیدار کرنا ہے۔5 اگست 2019 ء کو بھارت نے سوچا تھا کہ ایک دستخط سے کشمیر کا مسئلہ ختم کر دے گا۔ لیکن 6سال بعد حقیقت یہ ہے کہ مزاحمت پہلے سے زیادہ زندہ ہے۔ جیلوں میں بند یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنما آج بھی کہتے ہیں “ہم غلام نہیں بنیں گے”۔یومِ استحصال اسی عزم کا نام ہے۔ یہ کہتا ہے کہ ہم نے 2019 ء کا زخم نہیں بھلایا اور نہ بھولیں گے۔ فاروق عبداللہ جیسے لوگوں کا مودی سرکار پر انگلی اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم کا پردہ اب خود مقبوضہ کشمیر کے اندر سے چاک ہو رہا ہے۔پاکستان کا موقف واضح ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان، لیکن وہ تبھی ممکن ہے جب کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت ملے گا۔ اس وقت تک ہم ہر 5 اگست کو دنیا کو جھنجھوڑتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے: استحصال نامنظور، جبر نامنظور، کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *