خطرات کاتوازن
(گزشتہ سےپیوستہ)
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے گویا ایک نئی راہ اختیار کیامارات کی حکومت کے مطابق ایسی راہ جو ترقی، ٹیکنالوجی اور عالمی شراکت داری کی طرف تو لے جاتی ہے، مگر ساتھ ہی اسے علاقائی تنہائی کے خطرے سے بھی دوچار کردیا ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے دروازے کی مانند ہے جو امکانات بھی رکھتا ہے اور اندیشے بھی۔
اگرچہ امارات میں عوامی سطح پرکھلی مخالفت نظرنہیں آتی،مگراندرونی سطح پرسوالات موجودہیں۔یہ خاموشی کسی اطمینان کی علامت نہیں بلکہ یہ کسی بھی وقت ایک دباؤمیں تبدیل ہوکر اضطراب کی نشانی بن سکتی ہے۔ ریاستی کنٹرول اورمحدوداظہارِرائے کے ماحول میں عوام کے خیالات اکثرسطح پرنہیں آتے،مگریہ زیرِسطح بہنے والے جذبات کسی بھی وقت سیاسی دباؤ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔یہ سوال کہ’’ہم کس سمت جا رہے ہیں؟‘‘ایک ایساسوال ہے جوہرباشعورمعاشرے کے دل میں ضرور جنم لیتاہے۔
امارات کی معیشت اس کی سب سے بڑی اور اصل قوت ہے ،سیاحت،سرمایہ کاری اورعالمی تجارت کاایک روشن مرکزمگرجنگی حالات نے اس چمک کو دھندلادیاہے،اوریہی وجہ ہے کہ وہ جنگ کی بجائے استحکام کوترجیح دیتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کااعتماد، سیاحوں کی آمداورکاروباری سرگرمیاں سب امن واستحکام سے وابستہ ہیں۔اسی لیے امارات ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنے تعلقات بھی برقراررکھ سکے اورخودکوبراہِ راست تصادم سے بھی بچاسکے۔
یہ معاہدے خطے میں ایک نئی سفارتی روایت کاآغازہیں،جہاں مفادات نظریات پرغالب آتے دکھائی دیتے ہیں۔امریکاکی خواہش ہے کہ ان معاہدوں کادائرہ مزیدوسیع ہو،مگر غزہ کی جنگ اورخطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کوسست کردیاہے۔سعودی عرب جیسے ممالک اب بھی محتاط ہیں،جواس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ امارات کاراستہ سب کے لئے قابلِ قبول نہیں۔اسرائیل اور امارات کے درمیان دفاعی تعاو ن خصوصا آئرن ڈوم اوردیگردفاعی معاہدے اس بات کاثبوت ہیں کہ امارات ایک نئے دفاعی بلاک کاحصہ بن چکا ہے ۔امارات کایہی کردارایک نئی مثال قائم کرتاہے۔یہ اتحادخطے میں طاقت کے توازن کوبدل رہاہے،مگرساتھ ہی ایران کے لئے اشتعال کا باعث بھی بن رہاہے۔یوں یہ تعاون ایک طرف تحفظ کاذریعہ ہے تودوسری طرف خطرے کاپیش خیمہ۔
ایران کی نظرمیں امارات اب ایک اہم ہدف بن چکاہے،کیونکہ اس کے امریکااوراسرائیل سے تعلقات اسے ایک مخالف کیمپ کاحصہ بنا دیتے ہیں۔یہ صورتحال امارات کیلئے ایک نئے دورکاآغازہے جہاں اسے اپنی سلامتی کے لئے غیرمعمولی اقدامات کرناہوں گے۔ امارات کی پالیسی اسے دیگرعرب ممالک سے دورلے ج رہی ہے،جواسے طویل المدتی سفارتی چیلنجزسے دوچارکرے گی۔خطے میں اسرائیل کو اب بھی ایک بڑا خطرہ سمجھاجاتاہے۔یہ فاصلہ اگربڑھتارہاتوایک مستقل سفارتی خلیج میں تبدیل ہوسکتاہے،جوخطے کی وحدت کو متاثر کرے گا۔ایک طرف اسرائیل،امریکااورممکنہ طور پر بھارت کا بلاک، اوردوسری طرف ترکی،پاکستان اور ایران کے قریب ممالک یہ تقسیم ایک نئے عالمی نظام کی نشاندہی کرتی ہے ایک نئے عالمی توازن کی نشاندہی کرتی ہے،جہاں اتحادنظریات کی بجائے مفادات کی بنیادپر تشکیل پارہے ہیں۔
ابتدائی سوالات کاجواب اب واضح ہوجاتا ہے۔ امارات ایک مختلف سمت اختیارکررہا ہے اورایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کے فیصلے اس کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ایران کے ساتھ اس کی کشیدگی اور اسرائیل سے قربت اسے ایک نئے راستے پرلے جارہی ہے، ایساراستہ جومواقع بھی رکھتاہے اورخطرات بھییہ ایک ایسی سمت جواسے عالمی طاقتوں کے قریب لے جارہی ہے مگرعلاقائی سطح پرتنہابھی کرسکتی ہے۔ایران کے ساتھ اس کی دشمنی محض وقتی نہیں بلکہ تاریخی،نظریاتی اورجغرافیائی عوامل کانتیجہ ہے۔ مشرقِ وسطی اب محض جغرافیہ نہیں بلکہ نظریات،مفادات اورطاقتوں کاایک ایساپیچیدہ جال بن چکاہے جواہم گرہ کی حیثیت رکھتا ہے ،ایسی گرہ جواگرکھل جائے توپورانظام متاثرہو سکتا ہے، اور اگرمضبوط ہوجائے توایک نئی ترتیب جنم لے سکتی ہے۔
یہ پوری داستان دراصل طاقت، خوف، مفاد اور حکمت عملی کی ایک پیچیدہ کہانی ہے اورمتحدہ عرب امارات اس کہانی کاایک مرکزی کردارہے ایک ایسا کردار جوبیک وقت کئی محاذوں پرکھیل رہاہے۔تاریخ کاپہیہ گھوم رہاہے،اورآنے والے دن طے کریں گے کہ یہ حکمت عملی استحکام لاتی ہے یاایک نئے بحران کوجنم دیتی ہے۔یادرہے کہ امارات کے لئے یہ ایک حساس اورنازک موڑہے جہاں وہ عالمی طاقتوں بالخصوص امریکااوراسرائیل کے ساتھ تعلقات کوترقی اوراتحادکی علامت سمجھتاہے لیکن وہ یہ بھول رہاہے کہ اس سراب کی آڑمیں دراصل تنہائی اورعلاقائی کشیدگی کے گڑھے اس کے منتظرہیں۔یہ فیصلہ کہ وہ کس سمت بڑھتاہے،نہ صرف اس کے اپنے مستقبل بلکہ پورے مشرقِ وسطی کے توازن کوبھی متاثرکرے گا ۔گویایہ کہانی محض ایک ملک کی نہیں،بلکہ ایک پورے عہدکی کہانی ہیایساعہدجہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں ہرفیصلہ تاریخ کے اوراق پرایک نئی سطرلکھ رہاہے۔