زندگی جبر مسلسل
|

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

یہ کسی پراگندہ و پژمردہ حال فرد کا نوحہ نہیں، نہ ہی کرب و بلا میں گھرے کسی ایک انسان کی شکستہ حالی کا مرثیہ ہے ۔ بلکہ ، ہماری اجتماعی زندگی کا سب سے مختصر اور جامع گریہ ہے۔ پاکستان بنے تقریبا آٹھ دہائیاں بیتنے کوہیں ۔ اس عرصے میں نسلیں جوان ہوئیں، بوڑھی ہوئیں اور رزق خاک ہوئیں ، مگر عام آدمی کے مقدر کی کتاب کے بیشتر صفحات آج بھی ماتم جبر سے لکھے ہوئے ہیں۔جیسے 1947 ء میں تھے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت محرومی نئی آزادی کے ابتدائی مسائل کا نام تھی، آج وہ ایک مستقل نظام بن چکی ہے۔قیامِ پاکستان ایک خواب تھا ایسا خواب جس میں ایک عام مسلمان کو عزت، انصاف، روزگار، تعلیم اور تحفظ کی امید دکھائی گئی تھی۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، گھر بار چھوڑے، جانیں قربان کیں اور ایک نئے وطن کی بنیاد رکھی۔ مگر آزادی کے ابتدائی برسوں ہی میں ریاست کو سیاسی عدم استحکام، انتظامی بحران، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی بد حالی اور ادارہ جاتی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا۔ قائداعظمؒ کی وفات اور پھر لیاقت علی خان کا قتل اس نوزائیدہ ریاست کے لئے ایسے صدمے تھے جن کے اثرات دیر تک محسوس کئے گئے۔جمہوریت کا سفر کبھی آگے بڑھا، کبھی رک گیا۔ دستور بنتے بنتے نو برس گزر گئے۔ پھر مارشل لا آیا۔ ایک سیاسی نظام نے دوسرے کو راستہ دیا، مگر عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی نہ آ سکی۔
1958ء سے 1971 ء تک کا سفر سیاس لا مرکزیت، معاشی ناہمواری اور بالآخر ایک قومی سانحہ کہ پاکستان دو لخت ہوا ، صرف جغرافیہ تبدیل نہیں ہوا، ملک نہیں ٹوٹا،عام آدمی کا اعتماد بھی پارہ پارہ ہوا۔1970ء کی دہائی میں روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ بلند ہوا۔ کچھ طبقات کو ریاستی سرپرستی ملی، مگر قومی معیشت، اداروں اور نجی شعبے کے درمیان عدم توازن نے نئے مسائل کھڑے کئے۔ پھر ایک اور طویل فوجی دور آیا۔ 1980ء کی دہائی میں افغان جنگ، مذہبی سیاست اور عالمی طاقتوں کی کشمکش نے معاشرے کی ساخت بدل دی۔ 1990ء کی دہائی میں جمہوری حکومتیں آئیں مگر اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔ احتساب، کرپشن، اقتدار کی کشمکش اور ادارہ جاتی تصادم نے ریاستی تسلسل کو کمزور رکھا۔پھر 1999ء آیا، ایک اور فوجی دور شروع ہوا۔ 2008ء کے بعد جمہوریت واپس آئی، مگر سیاسی استحکام ایک خواب ہی رہا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، نعرے بدلتے رہے، چہرے بدلتے رہے ، جو نہیں بدلا وہ عام آدمی کی زندگی تھی۔اصل المیہ یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں متوسط طبقہ مسلسل پستا رہا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ مکمل طور پر غریب ہے کہ ہر دروازے پر امداد کے لئے دستک دے ، نہ اتنا خود کفیل کہ بچوں کو بہترین تعلیم، علاج اور محفوظ مستقبل خرید کر دے سکے۔ اس طبقے کا باپ پوری زندگی ملازمت کرتا ہے، بچوں کی فیسیں دیتا ہے، بجلی، گیس، مکان، علاج اور آمدورفت کے اخراجات پورے کرتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی جمع پونجی کو بیماریوں کی نذر ہوتے دیکھتا ہے۔تعلیم، جو کسی بھی قوم کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں طبقاتی تقسیم کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی۔ ایک طرف مہنگے نجی ادارے ہیں، دوسری طرف وسائل سے محروم سرکاری اسکول۔ ایک بچے کے لئے دنیا بھر کے افق کھلے ہیں، دوسرے کے لئے ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی روزگار کے سب در بند ہیں۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھی مگر علم، تحقیق اور روزگار کے درمیان فاصلہ بھی بڑھتے چلے گئے۔معیشت کا حال یہ ہے کہ آمدن بڑھنے سے پہلے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ تنخواہ آنے سے پہلے بلوں کا خوف حرز جاں ہوتا ہے۔ بجلی کا بل، بچوں کی فیس، کرایہ، راشن، پٹرول، دوا اور روزمرہ ضروریات ،متوسط آدمی کی تنخواہ تقسیم ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ مہنگائی صرف بازار میں قیمتوں کا بڑھنا نہیں یہ انسان کے خوابوں کی تعبیر کے لٹ جانے کا نام ہے۔سماجی زندگی بھی اس مسلسل معاشی دبا سے محفوظ نہیں رہی۔ برداشت کم ہوئی، اضطراب بڑھا، رشتوں میں مصلحت داخل ہوئی اور انسان اپنے ہی مستقبل سے خوف زدہ ہو گیا۔ نوجوان ڈگری لے کر بیرون ملک جانے کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ والدین بچوں کو یہاں مستقبل دینے سے زیادہ انہیں یہاں سے نکالنے کی فکر میں ہیں۔یہ کیسی آزادی ہے جس میں آدمی اپنے ہی وطن میں محفوظ مستقبل کی تلاش میں دربدر ہو؟ہمیں اس سوال سے بھاگنے کی بجائے اس کا سامنا کرنا ہوگا۔
پاکستان کی تاریخ صرف حکمرانوں، مارشل لائوں، انتخابات اور سیاسی جماعتوں کی تاریخ نہیں ، یہ اس عام آدمی کی تاریخ بھی ہے جس نے ہر دور میں ریاست کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا، ٹیکس دیا، ووٹ دیا، بیٹے فوج میں بھیجے، بیٹیاں بیاہیں، بچوں کو پڑھایا اور ہر بحران کے بعد ایک نئی صبح کی امید کا عزم باندھا۔مگر اب امید بھی مٹنے لگی ہے۔زندگی واقعی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹنی پڑ رہی ہے۔ کبھی سیاست نے آزمایا، کبھی معیشت نے، کبھی سماج نے اور کبھی تعلیم اور روزگار کے نظام نے۔ لیکن شاید سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے محرومی کو معمول سمجھ لیا ہے۔قومیں صرف ایٹم بم، موٹروے اور بلند عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں ہوتیں۔ قوم اس وقت ترقی کرتی ہے جب اس کا عام شہری عزت سے جیتا، اطمینان سے کماتا، اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دیتا اور بڑھاپے میں بے فکری سے سانس لیتا ہے۔ پاکستان کو اب نئے نعروں سے زیادہ نئی ترجیحات کی ضرورت ہے۔ ورنہ تاریخ ہم سے ایک ہی سوال پوچھتی رہے گی کہ ’’جس پاکستان کے لئے تمہارے آبا نے اپنا سب کچھ قربان کیا تھا، کیا تم نے کبھی اس پاکستان کو عام آدمی کی زندگی میں تلاش کرنے کی کوشش بھی کی؟‘‘

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *