اسٹیل مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ، ایف بی آر کا نیا فیصلہ
اسلام آباد: اسٹیل مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئرن اینڈ اسٹیل سیکٹر کے مخصوص رجسٹرڈ مینوفیکچررز کے لیے بجلی کے استعمال پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کا اثر اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 14 آف 2026 جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے تقریباً 100 رجسٹرڈ آئرن اینڈ اسٹیل مینوفیکچررز، جن میں میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس شامل ہیں، اس نئے ٹیکس کے دائرہ کار میں آئیں گے۔
کن صنعتوں پر نیا ٹیکس لاگو ہوگا؟
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ شرح صرف ان رجسٹرڈ مینوفیکچررز پر لاگو ہوگی جنہوں نے گزشتہ 12 ماہ کے دوران مخصوص ایچ ایس کوڈز کے تحت درآمد شدہ اسکریپ یا ای ایف ایس درآمد کنندگان سے براہ راست خریدی گئی اسکریپ کا استعمال مجموعی خریداری کے 70 فیصد سے زیادہ کیا ہو۔ اس کے ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ متعلقہ صنعتوں کے آپریشنز ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے مکمل طور پر منسلک ہوں۔
بجلی کے بلوں میں وصولی ہوگی
ایف بی آر نے ملک بھر کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ متعلقہ مینوفیکچررز کے بجلی کے بلوں میں فی یونٹ 5 روپے کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کریں۔
اس کے علاوہ ایف بی آر نے ان رجسٹرڈ مینوفیکچررز کی تفصیلی فہرست بھی جاری کر دی ہے جن پر یہ حکم لاگو ہوگا۔
فہرست میں ردوبدل بھی ممکن
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اہل مینوفیکچررز کی فہرست کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا۔ ایف بی آر یا متعلقہ چیف کمشنر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو ضرورت کے مطابق کسی صنعت کار کو فہرست میں شامل یا خارج کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
حکام کے مطابق اگر کسی صنعت کار کو نئے نظام یا ٹیکس کے اطلاق سے متعلق کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو سے رجوع کر سکتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے نرخوں پر اضافی سیلز ٹیکس کے باعث پیداواری اخراجات بڑھیں گے، جس کے نتیجے میں سریا، اسٹیل شیٹس اور دیگر اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔