| |

زیادہ چینی کھانے کا ایک اور بڑا نقصان دریافت، نئی تحقیق میں اہم انکشاف

زیادہ چینی کھانے کے نقصانات سے متعلق ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹھے کا زیادہ استعمال صرف ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر ہی نہیں بلکہ دمہ کے مریضوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ مقدار میں چینی کا استعمال جسم میں سوزش (ورم) کو بڑھا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دمہ کے مریضوں میں سانس لینے میں دشواری اور الرجی کے شدید دوروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی طبی جریدے نیوٹریشنز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق چوہوں پر کیے گئے تجربات میں انہیں معمول کی خوراک کے ساتھ میٹھا دودھ بھی دیا گیا۔ صرف دو ہفتوں کے اندر ان میں ایسے اثرات سامنے آئے جن سے پھیپھڑوں کی سوزش میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں واضح ہوا کہ چینی کا زیادہ استعمال بہت کم عرصے میں جسم میں سوزش بڑھا کر دمہ کی علامات کو زیادہ سنگین بنا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دمہ ایک دائمی بیماری ہے جس کا مکمل علاج فی الحال موجود نہیں، تاہم ادویات اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس کی علامات کو قابو میں رکھا جاتا ہے۔ اس بیماری میں سانس کی نالیاں سوج جاتی ہیں، جس کے باعث کھانسی، سینے میں جکڑن، سانس پھولنے اور روزمرہ کے معمولات انجام دینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ والدین عموماً بچوں میں زیادہ میٹھا کھانے سے موٹاپے یا دانتوں کے مسائل کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں، لیکن اب یہ شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ چینی دمہ کی شدت میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ چینی کھانے کے نقصانات سے بچنے کے لیے روزمرہ غذا میں میٹھے کا استعمال محدود رکھنا چاہیے، خاص طور پر ایسے افراد کو جو دمہ یا سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق متوازن غذا اختیار کرنا مجموعی صحت کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *