امریکا میں نئے وائرس کا حملہ: 30 ریاستوں میں ہنگامی صورتحال، ہلاکتیں
واشنگٹن: امریکا کے مختلف علاقوں میں مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والے خطرناک ویسٹ نائل وائرس نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے دستیاب میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک 30 ریاستوں میں 180 سے زائد افراد اس بیماری کی زد میں آ چکے ہیں۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے رپورٹ میں بتایا کہ وائرس کے باعث اب تک کم از کم 8 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایریزونا ریاست اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جہاں 73 کیسز اور 5 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔
کیلیفورنیا کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے جہاں اب تک 30 افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے 3 مریض ہلاک ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ہے جو کہ ایک بڑا خطرہ ہے۔
یہ وائرس انسانی جسم کے اعصابی نظام اور دماغ پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ کیلیفورنیا کے علاقے ایلک گروو میں ایک 70 سالہ بزرگ بھی وائرس کے نتیجے میں شدید بیمار ہو کر اسپتال پہنچے جہاں انہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے پیچیدہ طبی عمل سے گزرنا پڑا۔
متاثرہ بزرگ کے اہل خانہ نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ مچھروں سے بچاؤ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ جسم کو مکمل ڈھانپ کر رکھیں اور مچھر بھگانے والی ادویات کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔
صحت عامہ کے ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ یہ بیماری بنیادی طور پر مچھروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رہائشی علاقوں میں مچھروں کی افزائش کو روکنا اور ان کے کاٹنے سے بچنا ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کا سب سے موثر اور واحد طریقہ ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہری گھروں کے ارد گرد پانی جمع نہ ہونے دیں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد ہی اس وبائی مرض کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔