کیا ایٹمی ہتھیار خطرناک شہابِ ثاقب سے زمین کو بچا سکتے ہیں؟
زمین کو خلا سے آنے والے بڑے سیارچوں کے ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے سائنس دانوں نے ایک نئے طریقے کا جائزہ لیا ہے، جس میں ایٹمی دھماکے کو انتہائی خطرناک صورت حال میں سیارچے کا راستہ تبدیل کرنے یا اسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے ممکنہ ذریعے کے طور پر آزمایا گیا ہے۔
امریکی لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری سے وابستہ سائنس دان آئزیا سینٹی سٹیون اور ان کی ٹیم نے طاقتور برقیاتی حسابی نظاموں کی مدد سے مختلف تجربات کیے۔ تحقیق میں تقریباً 160 میٹر چوڑے ایک فرضی سیارچے پر ایک میگا ٹن طاقت کے ایٹمی دھماکے کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایٹمی دھماکے کے لیے سیارچے سے براہ راست ٹکرانا ضروری نہیں، بلکہ اس کی سطح سے چند میٹر کے فاصلے پر دھماکا کرکے بھی اس کے راستے اور ساخت کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق ایٹمی دھماکے سے خارج ہونے والی تقریباً 60 سے 70 فیصد توانائی ایکس شعاعوں کی صورت میں نکلتی ہے۔ یہ انتہائی طاقتور شعاعیں سیارچے کی سطح کو شدید گرم کرسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں چٹان کا ایک حصہ تیزی سے بخارات میں تبدیل ہوکر باہر کی جانب خارج ہوجاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق سطح سے مادے کے اس تیزی سے اخراج کے نتیجے میں سیارچے پر ردعمل پیدا ہوسکتا ہے، جس سے اس کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آئے گی۔ شدید توانائی کے باعث سیارچے کے اندر بھی زبردست دباؤ پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ بڑے یا چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا امکان رکھتا ہے۔
3 مختلف نمونوں پر تجربات
سائنس دانوں نے اس عمل کی تفصیلی جانچ کے لیے کمپیوٹر پر 3 مختلف نمونے تیار کیے۔ ان نمونوں میں سیارچے کی ممکنہ ساخت اور ظاہری شکل کے حوالے سے دستیاب سائنسی معلومات شامل کی گئیں، جبکہ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایک حالیہ مشن سے حاصل ہونے والے سیارچے کے اعداد و شمار اور 2 حقیقی سیارچوں کے ٹکڑوں سے متعلق معلومات بھی استعمال کی گئیں۔
پہلے تجربے میں ایٹمی دھماکے کو سیارچے سے 10 میٹر کے فاصلے پر فرض کیا گیا۔ نتائج کے مطابق اس صورت میں سیارچے کا تقریباً 98 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا اور اس کا بیشتر مادہ الگ ہوکر مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔
دوسرے تجربے میں دھماکے کا فاصلہ بڑھا کر 25 میٹر کردیا گیا۔ حیران کن طور پر زیادہ فاصلے کے باوجود دھماکے سے خارج ہونے والی شعاعیں نسبتاً بڑے رقبے تک پہنچیں اور ابتدائی مرحلے میں سیارچے کو نمایاں نقصان پہنچا۔
تاہم سائنس دانوں نے واضح کیا کہ سیارچے کو ٹکڑوں میں تقسیم کردینا ہی مسئلے کا مکمل حل نہیں، کیونکہ دھماکے کے بعد پیدا ہونے والے ٹکڑوں کا مستقبل بھی اہم ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ٹکڑے ایک دوسرے سے دور ہوکر زمین کے لیے خطرہ ختم کردیں، لیکن یہ امکان بھی موجود ہے کہ ان میں سے کچھ ٹکڑے دوبارہ باہم جڑ جائیں یا ان کا کوئی بڑا حصہ زمین کی سمت بڑھ جائے۔
کمپیوٹر تجربہ انتہائی پیچیدہ تھا
تحقیق کی پیچیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کمپیوٹر نمونے میں صرف ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے 1,680 کمپیوٹر پروسیسرز کو مسلسل 59 دن تک استعمال کرنا پڑا۔
سائنس دانوں کے مطابق اسی پیچیدگی کے باعث موجودہ تجربے میں دھماکے کے بعد طویل عرصے تک سیارچے کے ٹکڑوں کے رویے کا مکمل جائزہ لینا ممکن نہیں ہوسکا۔ اس لیے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ دھماکے کے بعد تمام ٹکڑے زمین کے لیے خطرہ بننے سے مکمل طور پر ختم ہوجائیں گے۔
یہ تحقیق سیاروی دفاع کے لیے جاری عالمی سائنسی کوششوں کا حصہ ہے۔ ماہرین ایسے مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے کسی ممکنہ خطرناک سیارچے کے زمین سے ٹکرانے سے پہلے ہی اس کی سمت تبدیل کی جاسکے۔
سائنس دانوں کے نزدیک ایٹمی دھماکے کا استعمال عام حالات میں سیارچوں سے نمٹنے کا طریقہ نہیں بلکہ انتہائی ہنگامی صورت حال میں آخری دفاعی اقدام ہوسکتا ہے، خاص طور پر اس وقت جب کوئی بڑا سیارچہ زمین کی جانب بڑھ رہا ہو اور اسے روکنے کے لیے دستیاب وقت انتہائی کم ہو۔
نئی تحقیق نے اگرچہ یہ ثابت نہیں کیا کہ ایٹمی دھماکے کے ذریعے کسی بڑے سیارچے کا خطرہ یقینی طور پر ختم کیا جاسکتا ہے، تاہم اس نے یہ ضرور واضح کیا ہے کہ انتہائی خطرناک صورت حال میں سیارچے کی رفتار، سمت اور ساخت کو متاثر کرنے کے لیے کون سے امکانات موجود ہوسکتے ہیں۔
اب سائنس دانوں کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی بڑا سیارچہ واقعی زمین سے ٹکرانے کے راستے پر ہو تو اس کا پتا کتنی جلدی چل سکے گا اور زمین کو محفوظ رکھنے کے لیے کارروائی کرنے کے لیے ہمارے پاس کتنا وقت ہوگا۔