کیا کھویا، کیا پایا؟ احتجاج ضرور، مگر اپنے مستقبل کی قیمت پر نہیں
احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے
جمہوری معاشروں میں عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے۔ جب بجلی کے بل بڑھ جائیں، روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں یا بنیادی سہولیات میں کمی محسوس ہو تو احتجاج ایک جائز اور آئینی راستہ ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا عوام کو احتجاج کے لیے زبردستی اکسایا جا رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا اصل خمیازہ کون بھگتتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر ہڑتال، ہر سڑک کی بندش اور ہر کاروباری تعطل کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری، مزدور، دکاندار، طالب علم اور روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرنے والے افراد کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے احتجاج کا مقصد مسائل کا حل ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے ہی معاشرے اور مستقبل کو نقصان پہنچانا۔
کیا ہر احتجاج فائدہ دیتا ہے؟
ہر احتجاج کے بعد خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: “کیا کھویا، کیا پایا؟” اگر احتجاج کے نتیجے میں ہمارے اپنے کاروبار بند ہو جائیں، تعلیمی ادارے متاثر ہوں، سڑکیں بند ہوں اور روزگار رک جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام شہری کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
احتجاج اس وقت مؤثر ہوتا ہے جب وہ اصلاح کا ذریعہ بنے، نہ کہ معاشی اور سماجی نقصان کا سبب۔
آزاد کشمیر کے نوجوان: سب سے بڑی طاقت
آزاد جموں و کشمیر کے نوجوان اس خطے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ آج ہزاروں طلبہ ملک کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور دنیا بھر میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
تعلیم، ہنر، تحقیق اور ٹیکنالوجی وہ ہتھیار ہیں جو نوجوانوں کو ایک مضبوط مستقبل دے سکتے ہیں۔ یہی ترقی کا راستہ ہے جسے ہر حال میں محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں کا اصل نقصان
جب کسی شہر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوتی ہے تو سب سے پہلے نقصان روزانہ کی آمدنی پر انحصار کرنے والے افراد کو ہوتا ہے۔
دکاندار اپنی کمائی سے محروم ہو جاتا ہے۔
مزدور کی دیہاڑی ختم ہو جاتی ہے۔
طالب علم کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔
سیاحت اور مقامی کاروبار کو نقصان پہنچتا ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ تمام نقصانات آخرکار اسی معاشرے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں جس کے بہتر مستقبل کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہوتا ہے۔
احتساب کا راستہ کیا ہونا چاہیے؟
اگر کہیں انتظامی کمزوریاں، بدانتظامی یا نااہلی موجود ہو تو اس کا حل جمہوری اور قانونی طریقوں میں تلاش کرنا چاہیے۔
شہری اپنے منتخب نمائندوں سے جواب طلب کر سکتے ہیں، شفاف احتساب کا مطالبہ کر سکتے ہیں، متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتے ہیں اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاحات کے لیے آواز بلند کر سکتے ہیں۔
تعمیری جدوجہد ہمیشہ دیرپا نتائج دیتی ہے۔
ترقی اور امن ساتھ ساتھ چلتے ہیں
کسی بھی خطے کی ترقی صرف سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ امن، استحکام، تعلیم اور معاشی سرگرمیوں سے ہوتی ہے۔ جب کاروبار چلتے ہیں، تعلیمی ادارے کھلے رہتے ہیں اور سرمایہ کاری بڑھتی ہے تو پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے۔
اس کے برعکس مسلسل بے یقینی اور انتشار ترقی کے سفر کو سست کر دیتے ہیں۔
نوجوانوں کے نام ایک پیغام
آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے پاس صلاحیت بھی ہے اور مواقع بھی۔ اپنی توانائیاں تعلیم، تحقیق، کاروبار، اختراع اور قومی ترقی کے لیے وقف کریں۔
اپنے حقوق کے لیے آواز ضرور اٹھائیں، لیکن اس انداز میں کہ آپ کے اپنے شہر، تعلیمی ادارے، کاروبار اور مستقبل محفوظ رہیں۔ ایک قلم، ایک کتاب، ایک لیپ ٹاپ اور ایک مثبت سوچ کسی بھی معاشرے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
نتیجہ: پہلے خود سے ایک سوال پوچھیں
ہر فیصلہ کرنے سے پہلے صرف ایک سوال ضرور پوچھیں:
“کیا کھویا، کیا پایا؟”
اگر احتجاج سے ہمارے اپنے لوگوں، اپنے کاروبار، اپنی تعلیم اور اپنے مستقبل کو نقصان پہنچ رہا ہو تو ہمیں اپنے طریقۂ کار پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
اختلافِ رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے، مگر تعمیری سوچ، امن اور ترقی ہی ایک مضبوط اور خوشحال مستقبل کی ضمانت ہیں۔