یورپی یونین کے تحفظات کو مؤثر سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے،میاں زاہد حسین
کراچی(کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان اور ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیٔرمین میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ یورپی یونین کی منڈی تک ترجیحی رسائی ملکی برآمدات، روزگار، صنعتی پیداوار اور زرمبادلہ کمانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے 2023 سے 2025 کے دوران جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پر عملدرآمد سے متعلق تازہ جائزے میں پاکستان کی بعض ذمہ داریوں کی تکمیل کے حوالے سے خامیوں اور تحفظات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگرچہ پاکستان نے اس جائزے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی اصلاحات کا مکمل اور متوازن عکاسی نہ کرنے کا کہا ہے، تاہم اس معاملے کو محاذ آرائی کے بجائے مؤثر سفارت کاری اور داخلی اصلاحات کو تیز کرنے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس معاملے سے پاکستان کے بہت بڑے معاشی مفادات جڑے ہیں، پاکستان نے 2025 میں یورپی یونین کو تقریباً 87 ارب یورو یا 89 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کیں جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان اشیاء کی مجموعی دوطرفہ تجارت تقریباً 122 ارب یورو یا 139 ارب ڈالر رہی، یورپی یونین پاکستان کی مجموعی تجارت میں تقریباً 141 فیصد حصہ رکھتی ہے اور ملک کی اہم ترین برآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو آخری وقت کا انتظار کرنے کے بجائے اس عبوری مدت کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی جی ایس پی پلس کوآرڈینیشن میکنزم قائم کیا جائے جس میں وزارت تجارت، وزارت خارجہ، ایف پی سی سی ائی، وزارت انسانی حقوق، وزارت سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل، وزارت موسمیاتی تبدیلی، صوبائی حکومتوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قوانین بنانا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد، پیش رفت کی درست دستاویز بندی اور قابل تصدیق نتائج یورپی اداروں کو مطمئن کرنے کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے 2014 میں جی ایس پی پلس حاصل کرنے کے بعد متعدد اہم قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ہیں اور ان کامیابیوں کو یورپی پالیسی سازوں کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا جانا چاہیے، جی ایس پی پلس محض ایک سفارتی سہولت نہیں بلکہ پاکستان کا ایک اہم معاشی اثاثہ ہے۔ یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی کا تحفظ دراصل برآمدات، صنعتوں، روزگار اور قیمتی زرمبادلہ آمدن کا تحفظ ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان نئے جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت اپنی اہلیت کو مضبوط اور یقینی بنا سکے۔