ببر لو بائی پاس دھرنے پر پولیس کارروائی ، 150افراد پر مقدمہ درج
سکھر (نمائندہ جسارت) ببرلو بائی پاس دھرنے پر پولیس کارروائی کے بعد 13 نامزد سمیت 150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ،ببرلو بائی پاس پر پریا ایکشن کمیٹی کی جانب سے پریا کماری، اجالا سولنگی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں سے لاپتا 27 کمسن بچوں کی بازیابی کے لیے جاری احتجاجی دھرنے کو بالجبر ختم کیا جانے کی پولیس کارروائی کے دوران گرفتار شدگان کیخلاف ببرلو تھانے میں سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔پولیس کے مطابق درج کی گئی ایف آئی آر میں 13 نامزد افراد سمیت 150 نامعلوم افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق نامزد ملزمان میں سہنی پارس، پنہل ساریو، گل حسن کھوسو، سردار سولنگی، جبار شیخ، شہناز شیخ، مٹھل کھہڑو، شمس الدین سولنگی، ابراہیم سولنگی سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔پولیس کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے دوران قومی پرچم کی توہین، سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے، پولیس پر پتھراؤ، قومی شاہراہ کو بند کرنے اور دیگر قانونی خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا، جس پر مختلف تعزیری دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات پولیس نے ببرلو بائی پاس پر جاری احتجاجی دھرنے کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔ دوسری جانب ببرلو دھرنے کے بعد دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار افراد کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر عدالت سخت نوٹس، پریا کماری اور دیگر لاپتہ بچوں کی بازیابی کے لیے ببرلو بائی پاس پر دھرنے کو پولیس کیجانب سے بالجبر ختم کرایا جانے کے دوران گرفتار سوہنی پارس، لیاقت جلبانی اور دیگر کو پیش نہ کرنے کے معاملے پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خیرپور منو مل کی عدالت میں سماعت ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے ایس ایچ او ببرلو کو حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سوہنی پارس، لیاقت جلبانی سمیت تمام گرفتار یا زیر حراست افراد کو ایک گھنٹے میں عدالت میں پیش کیا جائے۔ درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ غضنفر جتوئی نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیشن جج کے حکم پر ایس ایس پی خیرپور، ایس ایچ او ببلو اور متعلقہ فریقین کو طلب کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے 13 معلوم اور 150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات بشمول دہشت گردی ایکٹ شامل کی گئی ہیں۔