موبائل فون انٹرنیٹ کے استعمال میں خواتین مردوں سے بازی لے گئیں
اسلام آباد(آن لائن)موبائل فون انٹرنیٹ کے استعمال میں پاکستان میں خواتین مردوں سے بازی لے گئیں۔گذشتہ سال کے دوران خواتین میں انٹرنیٹ کا استعمال 53 فیصد تک پہنچ گیا۔موبائل کمیونیکیشنز کے لیے عالمی تنظیم جی ایس ایم اے نے اپنی رپورٹ ڈیجیٹل پاکستان 2030 پیش کر دی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے پائیدار سرمایہ کاری، اعتماد اور جامع معاشی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔جی ایس ایم اے کے ہیڈ آف ایشیا پیسفک جولین گورمن نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل تبدیلی کی مضبوط بنیادیں قائم کر لی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم پالیسی اصلاحات سے سرمایہ کاری کا ماحول مزید بہتر ہوا ہے جبکہ خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت اور موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2024 سے 2025 کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ کا استعمال 45 فیصد سے بڑھ کر 53 فیصد ہو گیا جبکہ موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 25 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔ رپورٹ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کو قومی پیداوار اور معاشی ترقی کا اہم محرک قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے پانچ اہم ترجیحات کا تعین کیا گیا ہے اور 2030 تک قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے فروغ کا ہدف مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔