لیاقت بلوچ کی جمعیت کے کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت
لاہور (نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمے داران اور کارکنان کی گرفتاریوں اور پولیس چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے میں ہر شہری اور ہر تنظیم کو پرامن احتجاج کا آئینی و جمہوری حق حاصل ہے، جسے طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔منصورہ سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پرامن حل کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد پریس کلبوں کے باہر پرامن احتجاج کی کال دی تھی، مگر اس سے قبل ہی کارکنان کے گھروں اور مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتاریاں کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو طاقت کے استعمال کے بجائے تحمل، بردباری اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور فوری طور پر گرفتار طلبہ کو رہا کرے، چھاپوں اور ہراسانی کا سلسلہ بند کرے۔ ایسے اقدامات سے حالات مزید کشیدہ ہوں گے اور بے چینی میں اضافہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمے داری حکومت اور متعلقہ انتظامیہ پر عاید ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے معاملات کا حل طاقت، گرفتاریوں اور خون ریزی میں نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور عوام کے جائز مطالبات کو سننے میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کشیدگی میں اضافے کے بجائے تمام متعلقہ فریقوں سے بات چیت کا راستہ اختیار کرے تاکہ مسئلے کا پائیدار اور پرامن حل نکالا جا سکے۔نائب امیر جماعت اسلامی نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ ہر صورت پرامن، منظم اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا احتجاج جاری رکھیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اقدار کا تقاضا ہے کہ اختلاف رائے کو برداشت کیا جائے اور نوجوانوں کی آواز کو دبانے کے بجائے سنا جائے۔