حکمران اگر ملک نہیں چلاسکتے تو استعفیٰ دیں ، عوامی تحریک کا مطالبہ
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر):عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، نور نبی پلیجو اور ایڈووکیٹ ایاز کلوئی نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ اگر حکمران ملک نہیں چلا سکتے تو استعفٰی دے دیں۔ نئے صوبوں کی مہم فوری طور پر بند کی جائے اور سندھ کو تقسیم کرنے سے متعلق بیانات دے کر ملک میں انتشار پھیلانے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے 1971ء میں بھی ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا، اور اب نئے صوبوں کی ملک دشمن مہم چلا کر ایک بار پھر ملک کو 1971ء جیسے حالات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ جن کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، وہ جا کر اپنا کام کریں۔ سرکاری اداروں کے ترجمان اپنے اداروں کی ترجمانی تک محدود رہیں اور آبادی کو جواز بنا کر نئے صوبوں کی مہم چلانے کا سلسلہ بند کریں۔انہوں نے کہا کہ 1940ء کی قرارداد کے مطابق وفاق کے پاس صرف ڈھائی محکمے ہوں گے جبکہ باقی تمام اختیارات اور محکمے صوبوں کے پاس ہوں گے۔ اس قرارداد کے تحت سندھ ایک آزاد اور خودمختار وطن ہے۔ سندھی قوم اپنے وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ سات کروڑ سندھی اپنے وطن کے تحفظ کے لیے جدوجہد کریں گے۔رہنماؤں نے کہا کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ یہ بات نہ بھولے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، فارم 47 والی حکومت نہیں۔ فارم 47 طرز کی کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، اسی طرح کئی آمر اور جابر بھی آئے اور رخصت ہو گئے۔ سندھی قوم نے اپنی پُرامن جمہوری جدوجہد کے ذریعے تمام آمروں اور جابروں کو شکست دے کر اپنی دھرتی کا تحفظ کیا ہے۔ سندھ کی تقسیم کی کسی بھی سازش کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔