ٹنڈوجام ،زرعی یونیورسٹی کا 2026-27ء کابجٹ منظور

ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)سندھ زرعی یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کا 121واں اجلاس وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں جامعہ کی گورننس، مالیاتی استحکام اور مستقبل کی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اہم تعلیمی مالیاتی اور انتظامی اصلاحات کی منظوری دی گئی اجلاس میں 70ویں فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مالی سال 2026-27 ء کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ کے نظرثانی شدہ بنیادی پے اسکیلز 2026ء ملازمین کے لیے نظرثانی شدہ الاؤنسز اور پنشن میں اضافے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ تدریسی اسامیوں کو ضروریات کے مطابق ازسرِنو منظم کرنے کی توثیق بھی کی گئی سنڈیکیٹ نے جامعہ میں نئی فیکلٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قیام کی منظوری دی، کمپیوٹرائزیشن اینڈ نیٹ ورکنگ سیکشن کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز (ITS) میں تبدیل کرنے کی توثیق کی، جبکہ خیرپور کالج آف ایگریکلچر اینڈ مینجمنٹ سائنسز (KCAMS)، خیرپور میرس کے لیے شیڈول آف نیو ایکسپنڈیچر (SNE) کی منظوری بھی دی جس سے ادارے کی توسیع اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔ اجلاس میں گزشتہ سنڈیکیٹ اجلاس کی کارروائی کی توثیق کی گئی، سندھ زرعی یونیورسٹی کیمپس عمرکوٹ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مختلف تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی معاملات پر غور کرتے ہوئے ان پر بروقت عملدرآمد کے لیے ضروری فیصلے اور ہدایات جاری کی گئیںاس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے مالی سال 2025-26 ء کے دوران جامعہ کی تعلیمی، تحقیقی، انتظامی اور مالی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شدید مالی مشکلات کے باوجود سندھ زرعی یونیورسٹی نے دانشمندانہ مالی نظم و نسق اور داخلی وسائل میں اضافے کے ذریعے اپنی مالی صورتحال میں نمایاں بہتری لائی ہے انہوں نے بتایا کہ جامعہ پر سال 2022 ء سے اب تک 300 سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد میں 85 کروڑ روپے سے زائد واجبات ہیں جن کی مکمل ادائیگی حکومت کی جانب سے خصوصی یکمشت گرانٹ کے بغیر ممکن نہیں اس کے باوجود جامعہ نے اپنے وسائل اور سالانہ گرانٹ سے تقریباً 7 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے۔وائس چانسلر نے مزید بتایا کہ جامعہ نے مالیاتی استحکام کے لیے ایک جامع منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد ادارے کی آمدنی میں اضافہ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اخراجات پر مؤثر کنٹرول ہے۔ اس منصوبے کے تحت جنوری 2026ء سے ہر مستقل ملازم کی ابتدائی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اب تک تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع ہو چکے ہیں جبکہ اس فنڈ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *