20سال گزرنے کے باوجود محراب پور کو تحصیل کادرجہ نا مل سکا
محراب پور(نمائندہ جسارت)بیس سال گزرنے کے باوجود بنیادی صحت مرکز محراب پور کو تحصیل اسپتال کا درجہ نہیں مل سکا، اسپتال کی نئی عمارت کا منصوبہ تعطل کا شکار، محراب پور شہر کو تحصیل کادرجہ ملے بیس سال زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پی پی پی سندھ حکومت اور مقامی سیاستدانوں کی نا اہلی سے بنیادی صحت مرکز کو تحصیل اسپتال کا درجہ نہیں مل سکا ہے الٹا اسپتال کو نجی تنظیم پی پی ایل ا?ئی کے حوالے کر دیاگیا ہے، بنیادی صحت مرکز کی بوسیدہ عمارت کی تعمیر نو کیلئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے ہزار ڈے پروگرام کے تحت ٹینڈر بھی جاری کیا تھا لیکن بوسیدہ عمارت کی تعمیر نو کا ٹینڈر جاری ہونے کے باوجود منصوبہ تاحال شروع نہیں ہو سکا، ذرائع کے مطابق اسپتال کی عمارت پر قبضوں اور اسپتال عمارت خالی نہ کرانے کے باعث تعمیراتی کام التوا کا شکار ہے،ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈی ایم، پی پی ایچ آئی ریٹائرڈ کرنل ہدایت اللہ میمن نے عمارت خالی کرانے کیلئے ضلعی صحت آفیسر(ڈی ایچ او) نوشہرو فیروز ڈاکٹر اختیار میمن سے رابطہ کیا تھا تاہم او پی ڈی اور ڈاکٹروں کیلئے متبادل جگہ دستیاب نہ ہونے کے باعث پیش رفت نہیں ہو سکی، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل ہیومن راء ٹس آبزرور نوشہرو فیروز کے کوآرڈنیٹر محمد سلیم مغل کے مطابق بنیادی صحت مرکز محراب پور کی عمارتیں ڈی ایس پی ہاؤس، مختیارکار آفس، اسٹنٹ کمشنر آفس اور اسپیشل ایجوکیشن اسکول کے زیرِ استعمال ہیں جنہیں خالی کراکر اسپتال کی عمارت تعمیر کرائی جائے،مسلم لیگی رہنما ایڈووکیٹ آصف جاوید رندھاوا،سماجی رہنما محمد رفیق مغل نے ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز محمد ارسلان سلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ او پی ڈی کے لیے فوری متبادل جگہ فراہم کرکے بوسیدہ عمارت خالی کرائی جائے۔