پاکستان،سعودیہ، ترکیہ دفاعی معاہدہ پر زبیر طفیل کا خیر مقدم

کراچی(کامرس رپورٹر) یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور اسٹرٹیجک تعاون کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پوری مسلم دنیا کے لیے خوشی، اطمینان اور امید کا باعث ہے اور اس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔اپنے بیان میں زبیر طفیل نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں اسلامی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، تعاون اور یکجہتی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے، اس لیے تینوں ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانا ایک مثبت اور دور رس اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی تینوں ممالک مسلم دنیا میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف تینوں ممالک بلکہ پوری امت مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ زبیر طفیل نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے کے ذریعے دفاعی شعبے میں تعاون، تجربات اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ مزید بڑھے گا جبکہ مشترکہ تربیتی سرگرمیوں اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔صدر یو بی جی نے کہا کہ مضبوط دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی اور اقتصادی روابط کو بھی مزید فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اقتصادی تعاون میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھا کر تینوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کے درمیان روابط بڑھانے اور باقاعدگی سے تجارتی و سرمایہ کاری فورمز منعقد کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔زبیر طفیل نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ مسلم امہ کی مشترکہ سلامتی، امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی باہمی اتحاد، رواداری اور سفارتی تعاون کو فروغ دے کر خطے میں امن کے قیام اور مسلم دنیا کے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکہ مکرمہ میں ہونے والا یہ معاہدہ تینوں برادر ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو بھی مزید مضبوط کرے گا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *