ہیپاٹائٹس سی کے
| |

ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے میں انگلینڈ تاریخی سنگِ میل کے قریب

انگلینڈ جگر کو متاثر کرنے والی خطرناک بیماری ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عالمی ہدف کے حصول کے قریب پہنچ گیا ہے۔

صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ نے ہیپاٹائٹس سی کے معلوم مریضوں میں سے 80 فیصد کے علاج کا اہم ہدف حاصل کرلیا ہے جبکہ گزشتہ 1 دہائی کے دوران اس بیماری کے باعث ہونے والی اموات میں بھی 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے 2030 کی مدت مقرر کی گئی ہے اور انگلینڈ اس مقصد کی جانب نمایاں پیش رفت کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا ہے۔ این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق 2015 سے اب تک 1 لاکھ سے زائد افراد میں بیماری کی تشخیص کرکے انہیں علاج فراہم کیا جاچکا ہے، جس کے نتیجے میں معلوم مریضوں کے 80 فیصد علاج کا مقررہ ہدف حاصل ہوگیا۔

ہیپاٹائٹس سی ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جو بنیادی طور پر جگر کو متاثر کرتی ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور آگے چل کر سنگین اور جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم طبی شعبے میں ہونے والی پیش رفت نے اس بیماری کے علاج کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر بنادیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جدید اینٹی وائرل ادویات کے ذریعے عام طور پر 8 سے 12 ہفتے کے علاج کے بعد 95 فیصد سے زیادہ مریضوں کے جسم سے وائرس ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کامیابی کے باوجود بیماری سے نمٹنے میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ بہت سے متاثرہ افراد کو طویل عرصے تک اپنے مرض کا علم ہی نہیں ہوتا، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں ہیپاٹائٹس سی کی اکثر کوئی نمایاں علامت ظاہر نہیں ہوتی۔

ایسے مریض بظاہر صحت مند زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن وائرس خاموشی سے جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے انگلینڈ میں بیماری کے خاتمے کی حکمت عملی میں علاج کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی تلاش پر بھی توجہ دی جارہی ہے جو متاثر ہونے کے باوجود اب تک تشخیص سے محروم ہیں۔

2024 کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں تقریباً 50 ہزار 200 بالغ افراد ہیپاٹائٹس سی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ان میں سے 84.6 فیصد افراد کی بیماری کی تشخیص ہوچکی تھی، جبکہ حکام کا ہدف اس شرح کو 90 فیصد تک پہنچانا ہے۔ اس طرح اب بھی ہزاروں ایسے افراد موجود ہوسکتے ہیں جو وائرس سے متاثر ہیں لیکن انہیں اپنی بیماری کا علم نہیں۔

ان افراد تک رسائی کے لیے این ایچ ایس نے تشخیص کے طریقوں کو بھی وسیع کیا ہے۔ ہسپتالوں کے ہنگامی شعبوں میں خون کی جانچ، عام طبی معائنے کے دوران ٹیسٹ اور گھر بیٹھے مفت جانچ کی سہولت کے ذریعے ان افراد کی شناخت کی جارہی ہے جو ماضی میں وائرس سے متاثر ہوئے ہوسکتے ہیں لیکن کبھی اس کا ٹیسٹ نہیں کروایا۔

گھر پر مفت اور خفیہ جانچ کی سہولت ان افراد کے لیے بھی اہم قرار دی جارہی ہے جو کسی وجہ سے ڈاکٹر سے رجوع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حکام کا مقصد ایسی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ افراد کی بروقت تشخیص ہوسکے اور انہیں علاج تک پہنچایا جاسکے۔

انگلینڈ میں بعض ممالک میں پیدا ہونے والے افراد کو بھی ہیپاٹائٹس سی کی جانچ کروانے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان ممالک میں یوکرین، رومانیہ، ایسٹونیا، لٹویا، پولینڈ، البانیہ، لتھوانیا، بلغاریہ، چیکیا اور سلوواکیہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان ممالک میں پیدا ہونے والے بعض افراد ممکنہ طور پر 1991 سے پہلے طبی یا دانتوں کے علاج کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے ہوسکتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس سی بنیادی طور پر متاثرہ خون کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ متاثرہ شخص کے ساتھ استعمال شدہ سوئی یا انجیکشن کا اشتراک اس وائرس کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ ہوسکتا ہے۔ تاہم خون کی منتقلی کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کو کم کرنے کے لیے عطیہ کیے گئے خون کی مختلف متعدی بیماریوں کے لیے باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے۔

این ایچ ایس انگلینڈ کے قومی طبی سربراہ پروفیسر فرینکی سورڈز نے کہا ہے کہ انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کررہا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے 2030 کے ہدف تک پہنچنے کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کے مطابق بیماری کے خاتمے کے لیے موجودہ رفتار کو برقرار رکھنا اور ان تمام افراد تک پہنچنا ضروری ہے جنہیں تشخیص اور علاج کی ضرورت ہے۔

انہوں نے زیادہ خطرے سے دوچار افراد پر زور دیا کہ وہ این ایچ ایس کی مفت اور خفیہ گھر پر فراہم کی جانے والی جانچ کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد کی بروقت شناخت کرکے انہیں علاج فراہم کرنا بیماری کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات میں مزید کمی لانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

ہیپاٹائٹس سی ٹرسٹ نے بھی انگلینڈ کی پیش رفت کو صحت عامہ کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق ملک ایک ایسی اہم کامیابی کے قریب ہے جسے صحت عامہ کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل ہوسکتا ہے، تاہم مکمل خاتمے کے لیے ان افراد تک پہنچنا اب بھی ضروری ہے جو بیماری کا شکار ہونے کے باوجود نظام صحت سے باہر ہیں۔

انگلینڈ میں ہیپاٹائٹس سی کے علاج کی کامیابی کی ایک مثال بلیک برن، لنکاشائر سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ پال ایٹ ویل بھی ہیں۔ انہیں ایک معمول کے خون کے ٹیسٹ کے دوران معلوم ہوا کہ وہ اس وائرس کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تشخیص کے وقت وہ شدید حیران ہوئے کیونکہ انہیں بیماری کی کوئی واضح علامت محسوس نہیں ہورہی تھی۔

پال ایٹ ویل کے مطابق انہیں یقین ہی نہیں آیا کہ وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وائرس ان کے جسم میں کب داخل ہوا، تاہم امکان ظاہر کیا گیا کہ کئی دہائیاں قبل جنوبی افریقا میں ہونے والی ایک جراحی کے دوران وہ اس وائرس سے متاثر ہوئے ہوں۔ ان کے مطابق علاج کے دوران طبی عملے کی جانب سے فراہم کی جانے والی مدد نے ان کی صحت یابی میں اہم کردار ادا کیا۔

ہیپاٹائٹس سی کی موجودہ صورت حال کو برطانیہ کی ایک تلخ طبی تاریخ سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ 1970 سے 1991 کے دوران آلودہ خون اور خون سے تیار کی گئی مصنوعات کے ذریعے برطانیہ میں 30 ہزار سے زیادہ افراد ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی سے متاثر ہوئے تھے۔ اس واقعے کو آلودہ خون کا اسکینڈل کہا جاتا ہے اور اسے این ایچ ایس کی تاریخ کے بدترین طبی سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس اسکینڈل کے نتیجے میں تقریباً 3 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بعد ازاں ہونے والی عوامی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ متاثرہ افراد کو ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا جنہیں روکا جاسکتا تھا اور جنہیں قبول نہیں کیا جاسکتا تھا۔

اگرچہ انگلینڈ نے ہیپاٹائٹس سی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرلی ہیں، تاہم بیماری کے مکمل خاتمے کی منزل ابھی باقی ہے۔ 2015 کے مقابلے میں ہیپاٹائٹس سی سے ہونے والی اموات میں 65 فیصد کمی کا ہدف تاحال مکمل طور پر حاصل نہیں کیا جاسکا۔ موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے حکام کو امید ہے کہ 2030 کی مقررہ مدت سے پہلے اس ہدف کے حصول میں بھی نمایاں پیش رفت ممکن ہوگی۔

ماہرین کے مطابق ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے صرف مؤثر علاج کی دستیابی کافی نہیں بلکہ ان تمام افراد کو تلاش کرنا بھی ضروری ہے جو وائرس کا شکار ہونے کے باوجود تشخیص سے محروم ہیں۔ بروقت جانچ، درست تشخیص اور فوری علاج کے ذریعے بیماری سے ہونے والی اموات میں مزید کمی لائی جاسکتی ہے اور انگلینڈ 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے عالمی ہدف کو حاصل کرنے کی جانب اپنی پیش رفت جاری رکھ سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *