ایف بی آر: نئے مالی سال کے لیے ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ جاری
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کے لیے ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ جاری کر دیا ہے۔
یہ دستاویز فنانس ایکٹ 2026 کے مطابق اپ ڈیٹ کی گئی ہے اور اسے 30 جون 2026 تک نافذ العمل رکھا گیا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کی رہنمائی ہو سکے۔
اس ریٹ کارڈ میں درآمدات، تنخواہ، منافع، خدمات، معاہدوں، برآمدات، کرایہ، انعامات، پیٹرولیم مصنوعات، نقد رقم کے انخلا اور موٹر گاڑیوں سمیت بجلی اور ٹیلی فون و انٹرنیٹ کے بلوں پر عائد ٹیکس کی شرحوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام شفافیت کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ریٹ کارڈ کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے 6 لاکھ روپے تک کی سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح صفر رکھی گئی ہے۔ اس سے زائد آمدنی پر آمدنی کے مختلف سلیبز کے مطابق ایک فیصد سے لے کر 35 فیصد تک ٹیکس کی شرح مقرر کی گئی ہے، جو زیادہ آمدنی والے افراد کے لیے مختلف ہے۔
ایف بی آر نے بینک منافع، صکوک اور غیر مقیم افراد کو کی جانے والی ادائیگیوں پر بھی ٹیکس کی نئی شرحیں وضع کی ہیں۔ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (اے ٹی ایل) اور نان اے ٹی ایل افراد کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں واضح فرق رکھا گیا ہے، جو ٹیکس تعمیل کو یقینی بنائے گا۔
آئی ٹی خدمات، ای کامرس اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدنی پر بھی ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہونے والی لین دین، کیش آن ڈلیوری، اور سافٹ ویئر برآمدات کے لیے الگ الگ ٹیکس سلیبز متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ ٹیکس نیٹ کو ہر ممکن شعبے تک بڑھایا جا سکے۔
گاڑیوں کی خریداری پر ان کے انجن کی گنجائش کے لحاظ سے ٹیکس لیا جائے گا، جبکہ بجلی کے بلوں پر تجارتی، صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے الگ شرحیں مقرر ہیں۔
غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت اور ٹیلی فون و انٹرنیٹ کے استعمال پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ ریٹ کارڈ محض سہولت کے لیے ہے، کسی بھی قانونی تضاد کی صورت میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کو ہی حتمی حیثیت حاصل ہوگی۔ اسے کسی قانونی فورم پر بطور اصل قانون پیش نہیں کیا جا سکتا۔