ایران جنگ سے امریکی فوجی ذہنی دباؤ کا شکار، خودکشی کی کوشش کرنے لگے
ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران طویل عرصے تک مسلسل تعیناتی نے امریکی بحریہ کے اہلکاروں کو شدید ذہنی دباؤ سے دوچار کردیا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طویل تعیناتی سے پریشان ہوکر طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود متعدد اہلکاروں نے سمندر میں کود کر خودکشی کرنے کی کوشش کی، تاہم عملے کے دیگر ارکان نے کئی اہلکاروں کو ایسا قدم اٹھانے سے روک دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جہاز پر تعینات اہلکاروں کو مسلسل طویل ڈیوٹی اور غیر معمولی حالات کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض افراد کی ذہنی کیفیت شدید متاثر ہوئی۔ ایک اہلکار کی اہلیہ نے بھی واقعے سے متعلق بتایا کہ ان کے شوہر نے طویل اور مسلسل ڈیوٹی سے تنگ آکر جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے کو طویل عرصے سے معمول سے زیادہ عرصہ سمندر میں گزارنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً 5 ہزار امریکی سیلرز اور میرینز 250 روز سے زائد عرصے سے طیارہ بردار بحری جہاز پر موجود ہیں، جس کے نتیجے میں اہلکاروں پر جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
طویل تعیناتی کے ساتھ ساتھ جہاز پر خوراک اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت کے دعوے بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق مسلسل سمندری تعیناتی کے دوران اہلکاروں کو ضروری سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس نے پہلے سے دباؤ کا شکار عملے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی سینیٹرز نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے۔ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اگر طویل تعیناتی کے نتیجے میں اہلکاروں کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے اور خودکشی کی کوششوں جیسے واقعات پیش آرہے ہیں تو اس کی وجوہات کا تعین کرکے ذمہ دار عوامل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
تاہم امریکی بحریہ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات فوجیوں میں خودکشی کی کوششوں یا ذہنی صحت سے متعلق مسائل میں اضافے کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ بحریہ کی جانب سے ان اطلاعات کو مسترد کیے جانے کے بعد طیارہ بردار بحری جہاز پر اہلکاروں کے حالات اور طویل تعیناتی کے اثرات سے متعلق سوالات مزید اہم ہوگئے ہیں۔
امریکی بحریہ کے لیے طویل عرصے تک جاری رہنے والی تعیناتی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں جنگی حالات برقرار ہیں۔ یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود ہزاروں اہلکاروں کی طویل تعیناتی نے ان کی جسمانی تھکن، ذہنی دباؤ اور بنیادی ضروریات کی فراہمی سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کردیا ہے، جبکہ سینیٹرز کی جانب سے تحقیقات کے مطالبے کے بعد ان دعوؤں کی حقیقت جانچنے پر مزید توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔