اٹلی کا ماؤنٹ
| | |

اٹلی کا ماؤنٹ ایٹنا آتش فشاں پھٹ پڑا، سیاحوں کا غیر معمولی رش امڈ آیا

روم: اٹلی کے جزیرے سسلی میں واقع یورپ کے بلند ترین اور فعال آتش فشاں ماؤنٹ ایٹنا سے لاوا اور راکھ کے اخراج کا سلسلہ مسلسل ساتویں روز بھی جاری ہے۔

اس قدرتی منظر کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاحوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ رہی ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس اینڈ وولکینولوجی کے ماہر سالوو گامبینو نے کہا کہ گہرائی سے گیس اور میگما کا مسلسل اوپر آنا اس صورتحال کا سبب ہے۔ پہاڑ کے مختلف حصوں سے لاوے کے چشمے ابل رہے ہیں جو رات کے وقت ایک دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔

آتش فشاں کے قریب سیاحوں کا غیر معمولی رش بڑھنے سے مقامی راستوں پر ٹریفک جام اور بدنظمی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ گائیڈز نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ آتش فشاں کے خطرناک حصوں کے قریب جانے کے بجائے صرف محفوظ مقامات سے ہی مشاہدہ کریں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سیاح مناسب ہائیکنگ جوتے اور ضروری حفاظتی سامان کے بغیر پہاڑ پر جانے کی غلطی نہ کریں۔

اٹلی کے سول پروٹیکشن ادارے نے علاقے کے لیے یلو الرٹ جاری کیا ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔

آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ نے فضائی سفر کو شدید متاثر کیا ہے۔ سسلی کے اہم ترین کاتانیا ایئرپورٹ پر راکھ کے بادلوں کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ کاتانیا ایئرپورٹ انتظامیہ نے حفاظتی نقطہ نظر سے پروازوں کی آمد و رفت کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ماؤنٹ ایٹنا دنیا کے سب سے زیادہ فعال آتش فشاں پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ سسلی کی پہچان بھی ہے۔ موجودہ سرگرمی نے جہاں سیاحت کو عارضی طور پر فروغ دیا ہے، وہیں فضائی نظام اور مقامی نقل و حرکت کے لیے بھی بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔

حکومت نے لوگوں کو تلقین کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک بلندیوں پر گائیڈ کے بغیر جانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ پہاڑی راستے انتہائی دشوار گزار اور غیر متوقع موسمی حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *