|

یوکرین پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، مگر معذرت کے بعد کارروائی روک دی گئی،ایران

تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر کے اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یوکرین میں 3 مختلف مقامات پر حملے کی مکمل تیاری کر لی تھی، کیف کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔

ترک  میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق اعلیٰ فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے حملوں کے لیے تمام عسکری تیاریاں مکمل کر لی تھیں اور اہداف بھی طے کر لیے گئے تھے، بعد میں فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کی جانب سے معذرت کیے جانے کے بعد ایران نے کشیدگی میں مزید اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے اس مبینہ معذرت کی نوعیت، وقت یا سفارتی ذرائع کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

محسن رضائی نے آبنائے ہرمز سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران صرف اپنی مقررہ بحری گزرگاہ کو تسلیم کرتا ہے اور کسی بھی متبادل راستے کو قبول نہیں کرے گا، اگر کوئی مخالف بحری جہاز ایران کی نظر میں غیر قانونی یا غیر مجاز راستہ اختیار کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ 17 روزہ ایران۔امریکا کشیدگی کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے امریکی فوجی منصوبوں کو ناکام بنایا اور امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا،ایران نے اس دوران اپنی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا، جس کے باعث مخالف فریق اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

سابق اعلیٰ فوجی مشیر کا کہنا تھا کہ ایران اپنی دفاعی حکمت عملی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اگر ملکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو مسلح افواج ہر سطح پر مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ایران اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران، امریکا اور یوکرین سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ آبنائے ہرمز، بحیرہ کیسپین اور مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی اور عسکری سرگرمیوں پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے جبکہ مختلف ممالک کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *