میلاد مصطفی پیغام
|

میلاد مصطفیٰ ﷺ: پیغام اور تقاضے

ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی دلوں میں ایک خاص قسم کی مٹھاس اترتی ہے۔ گلیاں سج جاتی ہیں، گھروں پر چراغ روشن ہوتے ہیں، نعت و درود کی آوازیں فضاؤں میں گھل جاتی ہیں، محفلیں سجتی ہیں اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا رنگ ہر طرف نمایاں ہو جاتا ہے۔ ہر عاشقِ رسول ﷺ اپنے اپنے انداز میں خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ محبت صدیوں سے امتِ مسلمہ کے دلوں میں زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گی۔ لیکن یہی مہینہ ہمیں ایک اہم سوال بھی دیتا ہے کہ کیا ہماری محبت صرف چراغاں، جھنڈیوں، محفلوں اور نعتوں تک محدود ہے یا اس محبت کے پیچھے اپنی زندگی بدلنے کا سچا عزم بھی موجود ہے؟
حضور نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری دراصل پوری انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔ آپ ﷺ ایسے دور میں مبعوث ہوئے جب جہالت کا اندھیرا گہرا تھا، ظلم و ناانصافی عام تھی، طاقتور کمزور کو کچل دیتا تھا، عورت کو انسان تک نہیں سمجھا جاتا تھا اور قبائلی عصبیت نے انسانوں کو باہم دشمن بنا رکھا تھا۔ ایسے ماحول میں رحمتِ عالم ﷺ کی آمد ایک ایسے چراغ کی مانند تھی جس نے ہر طرف روشنی پھیلا دی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے”۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات کسی ایک طبقے یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت اور ہر زمانے کے لیے رحمت ہے۔
حضور ﷺ نے اپنی تئیس سالہ دعوتی زندگی میں انسانوں کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں بتایا، بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نظام عطا کیا۔ آپ ﷺ نے ایمان کا درست تصور دیا، عبادت کو شعور اور بندگی کا نام بنایا، اخلاق کو سنوارا، معاملات کو درست کیا، خاندان کے حقوق واضح کیے، پڑوسی کے حقوق کی تاکید فرمائی، غریبوں، یتیموں اور کمزوروں کی مدد کو دین کا بنیادی حصہ بنا دیا اور عدل و انصاف پر قائم ایسا معاشرہ وجود میں لائے جو قیامت تک انسانیت کے لیے نمونہ بن کر رہے گا۔ بکھرے ہوئے قبائل ایک امت بن گئے۔ دشمن بھائی بن گئے اور غلام کو عزت ملی۔ عورت کو حقوق ملے اور کمزور کو تحفظ ملا۔ اسی لیے قرآن نے صاف لفظوں میں فرمایا ہے کہ بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے”۔ اس میں ہماری پوری ذمہ داری چھپی ہوئی ہے کہ جس رسول سے ہم محبت کرتے ہیں، اسی رسول کی زندگی کو ہم اپنا نمونہ بھی بنائیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب حضور اکرم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: “آپ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا”۔ یعنی قرآن جس چیز کا حکم دیتا تھا، رسول اللہ ﷺ اس کا عملی نمونہ بن کر دکھاتے تھے اور جس بات سے روکتا تھا، آپ ﷺ اس سے سب سے زیادہ دور رہتے تھے۔ آپ ﷺ عبادت میں بھی بے مثال تھے اور اخلاق میں بھی؛ گھر میں بھی رحمت تھے اور معاشرے میں بھی۔ دوستوں کے لیے بھی خیر خواہ تھے اور دشمنوں کے لیے بھی عفو و درگزر کا نمونہ تھے۔ آپ ﷺ راتوں کو اتنا قیام فرماتے کہ قدمِ مبارک پر آبلے پڑجاتے۔ جب عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی مغفرت فرما دی ہے، پھر اتنی محنت کی کیا ضرورت؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا: “کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟” اس جواب میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ محبت کا ایک اہم تقاضا شکر ہے، اور شکر صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی ہوتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی سچائی اور امانت کا روشن نمونہ تھی۔ مکہ کے لوگ، حتیٰ کہ آپ ﷺ کے مخالفین بھی، آپ کو “صادق” اور “امین” کہتے تھے۔ آج ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ اگر ہم عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں تو کیا ہمارے کاروبار میں سچائی ہے؟ کیا ہمارے وعدے پورے ہوتے ہیں؟ کیا ہمارے معاملات میں امانت اور دیانت موجود ہے؟ کیا ہماری زبان دوسروں کی عزت اور آبرو کے لیے محفوظ ہے؟ فتحِ مکہ کا واقعہ ہمیں آپ ﷺ کے اخلاق کی عظمت دکھاتا ہے۔ جن لوگوں نے برسوں آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو تکلیفیں دیں، جب وہ آپ کے سامنے بے بس کھڑے تھے تو آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے معافی کو اختیار کیا۔ طائف میں آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے، جسمِ مبارک لہولہان ہوا، مگر زبان سے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا نکلی۔ یہی وہ رحمت اور اخلاق ہیں جن کی ہمیں آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں، رشتے توڑ لیتے ہیں، دلوں میں کینہ اور حسد رکھتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں اور معمولی اختلاف کو دشمنی بنا لیتے ہیں۔ پھر جب ربیع الاول آتا ہے تو ہم عشقِ رسول ﷺ کے نعرے لگاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے جذبات گرم ہیں مگر ہمارے اخلاق سرد ہیں؟ ہمیں ٹھہر کر سوچنا ہوگا کہ ہمارے معاملات، ہمارے رویوں اور ہماری گفتگومیں ہمارے آقا ﷺ کی سیرت کی کتنی جھلک ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ پڑوسیوں کے حقوق پر اتنی تاکید فرمائی کہ صحابہ کرام کو گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی حصہ مل جائے گا۔ والدین کی خدمت، اولاد سے محبت، یتیموں کی خبرگیری، غریبوں کی مدد، مزدور کے حقوق اور کمزوروں کے ساتھ حسنِ سلوک۔ یہ سب سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کے روشن پہلو ہیں۔ اگر ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگی میں لے آئیں تو ہمارے گھر بھی بدل سکتے ہیں اور ہمارا معاشرہ بھی۔ ہمارے محلے میں امن ہو، ہمارے بازار میں دیانت ہو، ہمارے دفاتر میں انصاف ہو اور ہمارے گھروں میں محبت ہو۔ یہی سیرت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عملی اثر ہے۔
(جاری ہے)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *