ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں میں کشیدگی برقرار، ہنگامہ آرائی میں ملوث 200 سے زائد کارکنوں کی فہرست تیار
کراچی: ایم کیو ایم کے دو دھڑوں کے درمیان اتوار کو بہادر آباد میں ہونے والے تصادم کے بعد بھی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آ سکی،گزشتہ روز اگرچہ عارضی مرکز پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں، دونوں گروپوں کے درمیان تناؤ برقرار ر ہےجبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس کی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے بہادر آباد میں قائم عارضی مرکز کو معمول کے مطابق کھولا گیا، جہاں تنظیم کے بعض رہنما اور کارکن موجود تھے۔ شام تقریباً 4 بجے نیو ٹاؤن پولیس کی بھاری نفری مرکز پہنچی اور رابطہ کمیٹی کے دفتر کو سیل کرنے کی کوشش کی۔
اس موقع پر ایس ایچ او غلام حسین نفری کے ہمراہ دفتر میں داخل ہوئے، وہاں موجود کارکنوں نے دفتر سیل کرنے کا تحریری حکم نامہ طلب کر لیا۔ ایم کیو ایم رہنما شبیر قائم اور رکن قومی اسمبلی جاوید حنیف نے بھی پولیس حکام سے تحریری احکامات طلب کیے لیکن پولیس کے پاس کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔ پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اعلیٰ افسران کی ہدایت پر دفتر بند کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہونے پر پولیس بغیر کسی کارروائی کے واپس روانہ ہوگئی۔
ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال، انیس قائم خانی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان عارضی مرکز پہنچے،وہاں موجود تمام منتخب نمائندوں کا تعلق مصطفیٰ کمال گروپ سے تھا، جبکہ خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار اور ان کے گروپ کے دیگر رہنما مرکز نہیں آئے۔
مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھی تقریباً 2 گھنٹے تک مرکز میں موجود رہے۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جشن آزادی کا مہینہ شروع ہو چکا ہے، تمام پاکستانیوں کو جشن آزادی مبارک ہو،تمام معاملات جلد بہتر ہو جائیں گے اور ایسی کوئی صورتحال نہیں جسے حل نہ کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے دونوں گروپوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں، سینئر قیادت کی جانب سے تحفظات دور کر کے معاملات کو معمول پر لانے کے لیے رابطے جاری ہیں۔
ادھر اتوار کو ہونے والے تصادم کے بعد پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں،ہنگامہ آرائی میں ملوث 200 سے زائد کارکنوں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے جبکہ متعدد کارکنوں کو مختلف علاقوں سے حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مرکزی ملزم رحمان بھولا، جو مقدمے میں بری ہو چکا تھا، اسے بھی دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے، حکام کی جانب سے اس گرفتاری کی وجوہات یا اس کے خلاف درج نئے مقدمات کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔