ایران جنگ کے خاتمے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کے پاسداران انقلاب سے خفیہ رابطوں کا انکشاف
امریکی حکام کو ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ ایرانی وفد میں شامل مذاکرات کار پاسدارانِ انقلاب کی مکمل حمایت حاصل نہیں، جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی عسکری قیادت تک براہِ راست رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک غیر معمولی خفیہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔
امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت مئی کے وسط میں اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری تھے۔ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم میں شامل پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پاس اتنا اختیار نہیں کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کی حمایت کے بغیر کسی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دے سکیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر امریکی انتظامیہ نے عراقی کردستان کے صدر نیچیروان بارزانی کے ذریعے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قیادت تک خفیہ رابطہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بارزانی کو اس مقصد کے لیے موزوں سمجھا گیا کیونکہ وہ امریکی اور ایرانی دونوں حلقوں میں روابط رکھتے ہیں، ایران میں تعلیم حاصل کرچکے ہیں اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں۔
یہ خفیہ کوشش اس پس منظر میں کی گئی جب 40 روزہ جنگ کے دوران ایران کی اعلیٰ قیادت میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ جنگ کے دوران سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت متعدد اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ مزید بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ 8 اپریل کو جنگ بندی اور اسلام آباد میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد امریکا اور ایران نے تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔
مئی کے آغاز میں امریکی انتظامیہ کو امید تھی کہ فریقین کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، تاہم ایرانی جانب سے 10 دن سے زیادہ کی تاخیر نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کردی۔ امریکی حکام نے اس تاخیر کو اس امکان سے جوڑنا شروع کیا کہ مذاکراتی وفد کے پاس اندرونی طور پر درکار فیصلہ سازی کا اختیار موجود نہیں اور پاسدارانِ انقلاب کسی بھی معاہدے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 مئی کو امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس تلسی گیبارڈ نے نیچیروان بارزانی سے رابطہ کیا۔ اس رابطے کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دی تھی۔ گیبارڈ نے بارزانی سے درخواست کی کہ وہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر جنرل احمد وحیدی تک رسائی میں مدد کریں تاکہ امریکی حکام یہ جان سکیں کہ ایرانی عسکری قیادت مذاکراتی عمل اور اس میں پیش کی جانے والی تجاویز کی حمایت کرتی ہے یا نہیں۔
بارزانی نے امریکی درخواست قبول کرتے ہوئے ایرانی قیادت سے رابطہ کیا اور جنرل احمد وحیدی سے براہِ راست گفتگو کی کوشش کی۔ 14 مئی کو اربیل میں بارزانی کے دفتر پہنچنے والے ایک ایرانی اہلکار کے پاس ایک محفوظ رابطے کے لیے خفیہ فون موجود تھا، جس کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کی قیادت سے براہِ راست گفتگو کا انتظام کیا گیا۔
گفتگو کے دوران جنرل احمد وحیدی نے مبینہ طور پر واضح کیا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور جاری بحران کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کے خواہاں ہیں۔ اس یقین دہانی کے بعد نیچیروان بارزانی نے فوری طور پر تلسی گیبارڈ کو گفتگو کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جنہوں نے بعد ازاں امریکی صدر کے دفتر کو صورت حال سے مطلع کیا۔
اس پیش رفت کے بعد امریکا نے اربیل میں خفیہ مذاکرات کی میزبانی کی تجویز بھی پیش کی تاکہ دونوں فریق براہِ راست یا محدود سطح پر بات چیت کو آگے بڑھا سکیں، تاہم ایرانی حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا اور یہ ملاقات عملی شکل اختیار نہ کرسکی۔
ایرانی فریق کی جانب سے بنیادی خدشہ یہ ظاہر کیا گیا کہ عراقی کردستان میں اسرائیلی انٹیلی جنس کی سرگرمیاں موجود ہیں اور اگر ایرانی حکام وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ اسی خدشے کے باعث اربیل میں خفیہ ملاقات کا منصوبہ آگے نہ بڑھ سکا۔
دوسری جانب موجودہ صورتحال میں پاکستان اور قطر کے ثالث اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب تک مذاکراتی عمل میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ بعض علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی ثالثی کے حوالے سے سامنے آنے والی بعض اطلاعات زمینی صورت حال کے مقابلے میں زیادہ امید افزا ہوسکتی ہیں اور ان کا مقصد مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
ادھر نیچیروان بارزانی نے حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر وائٹ ہاؤس کو پیغامات بھیجے ہیں اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم سابق امریکی حکام میں شامل بریٹ میک گرک کے مطابق مذاکراتی تعطل کا بنیادی مسئلہ ثالثی کا فقدان نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کی پالیسی ہے، جس میں فوری تبدیلی کے امکانات بظاہر کم ہیں۔