لبنان پر اسرائیلی کارروائیاں ترکیہ کیلئے تشویشناک ہیں: ترک صدر
انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے لبنان میں اسرائیلی فوج کی مسلسل کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
الجزیرہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں اور خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کا تسلسل ایک انتہائی تشویشناک معاملہ ہے، جس کے نتیجے میں انسانی بحران مزید سنگین ہونے کے ساتھ ساتھ کشیدگی کے وسیع تر خطے میں پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ پہلے ہی مختلف تنازعات، سیاسی بحرانوں اور مسلسل کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، ایسے حالات میں مزید فوجی کارروائیوں کا آغاز خطے کی صورتحال کو معمول پر لانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں فریقین کو کشیدگی کم کرنے اور مسئلے کے پُرامن حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔
رجب طیب اردوان نے واضح کیا کہ لبنان کی خودمختاری، سلامتی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ لبنان سمیت مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا اور تنازعات کے خاتمے کے لیے سیاسی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیتا رہے گا۔
ترک صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئی ہے۔ مسلسل حملوں کے نتیجے میں خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ موجودہ کشیدگی وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔
ترکیہ اس سے قبل بھی غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتا رہا ہے۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ شہری آبادی کے تحفظ اور انسانی بحران کو مزید بڑھنے سے روکنا بھی عالمی برادری کی اہم ذمہ داری ہے۔