یورپ کا پہلا ملک جہاں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی ہوگی
پیرس: فرانس کی پارلیمنٹ نے بچوں کی ذہنی صحت اور سلامتی کے پیش نظر 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا تاریخی قانون منظور کر لیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام کے ساتھ فرانس یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ڈیجیٹل تحفظ کے لیے ایسے سخت ضوابط نافذ کیے ہیں۔
اس قانون کی منظوری کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھاری اکثریت سے ووٹ ڈالے گئے۔ سینیٹ میں 243 ارکان نے اس کی حمایت کی جبکہ قومی اسمبلی میں 279 ارکان نے حق میں ووٹ دیا۔ یہ فیصلہ معاشرتی سطح پر بچوں کے تحفظ کے عزم کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی حکومت کے وزیر اے آئی اینے لے ہنینف نے کہا کہ فرانس یورپ میں ڈیجیٹل میچورٹی کے اصولوں کو متعارف کروانے والا پہلا ملک بن چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ قانون نوجوان نسل کو انٹرنیٹ کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کی جانب ایک انتہائی اہم اور بروقت پیش رفت ہے۔
صدر عمانویل ماکروں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اس قانون کا اطلاق نئے تعلیمی سیشن کے آغاز سے کیا جائے۔ وہ اس سے قبل بھی نوجوانوں پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے موبائل فون سے دوری اختیار کریں اور تعلیمی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ مرکوز کریں۔
نئے قانون کے مطابق ستمبر میں شروع ہونے والے تعلیمی سال سے نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی ہوگی۔ جنوری سے ان اکاؤنٹس پر بھی قانون لاگو ہوگا جو پہلے سے موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے فرنچ پرائیویسی ریگیولیٹر سے عمر کی تصدیق کروانا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون کے دائرہ کار کو ہائی اسکولوں تک بھی وسیع کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی ماحول میں موبائل فون کے استعمال کو محدود کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آسٹریلیا بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ کر چکا ہے، جس کے بعد فرانس دنیا کا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔