|

جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے نیپچون کے ماضی کا حیران کن راز آشکار کردیا

نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے نیپچون کے بارے میں نئی تحقیق میں اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اربوں سال قبل پلوٹو کے حجم کے برابر ایک فلکی جرم نیپچون سے ٹکرایا تھا، جس نے اس کے گرد موجود کئی قدیم اجرام کو تباہ کر دیا۔

یہ نتائج ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے مشاہدات پر مبنی تحقیق میں سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے نیپچون کے اندرونی چاند اور گرد آلود حلقوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحقیق کے دوران پروٹیئس، لاریسا اور گیلیٹیا سمیت کئی اندرونی چاند کا مطالعہ کیا گیا۔ اس دوران ایسی معدنیات کے آثار ملے جو عموماً وہاں بنتی ہیں جہاں چٹانیں طویل عرصے تک مائع پانی کے رابطے میں رہتی ہیں۔

تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کی سیارہ شناس رائلی ڈیوس نے کہا کہ دریافت ہونے والی میگنیشیم سے بھرپور مٹی نما معدنیات ایک بڑے فلکی تصادم کی نشاندہی کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ طاقتور تصادم نیپچون کے گرد موجود کئی قدیم فلکی دنیاؤں کی تباہی کا باعث بنا۔ اس کے نتیجے میں آج نظر آنے والے حلقوں اور اجرام کی ساخت بھی متاثر ہوئی ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت نیپچون کی پراسرار تاریخ کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گی۔ علاوہ ازیں اس سے نظامِ شمسی کی تشکیل، ارتقا اور ابتدائی دور کے فلکی تصادم سے متعلق کئی اہم سوالات کے جواب بھی مل سکتے ہیں۔

اس تحقیق نے سائنس دانوں کو نیپچون کے ماضی پر نئی روشنی فراہم کی ہے۔ مزید مشاہدات مستقبل میں اس برفیلے سیارے اور اس کے گرد موجود اجرام کے بارے میں مزید راز سامنے لا سکتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *