معاہدہ مکہ کا
| |

معاہدۂ مکہ کا خیر مقدم کرتے ہیں، مسلم ممالک اتحاد کو مضبوط کریں، حافظ نعیم الرحمن

کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے معاہدۂ مکہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ممالک اس اتحاد کو مضبوط کرنے کے لیے کردار ادا کریں۔

ادارۂ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مکہ معاہدے کا خیرمقدم کیا۔  اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، سیف الدین ایڈووکیٹ اور دیگر بھی شریک تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم ممالک کے اس اتحاد کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ مسلم ملکوں کے اتحاد میں دیگر اسلامی ممالک کو بھی شامل ہونا چاہیے، تاکہ یہ اتحاد مضبوط ہو۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حکومت مستقل بمباری کررہی ہے۔ امریکا اسرائیل کا پشتیبان ہے۔ امریکا کی حکومت چند ہاتھوں میں یرغمال ہے۔ اسلامی دفاعی اتحاد نیتن یاہو کو متنبہ کردے کہ فلسطین کا معاملہ ہمارے ایمان کا معاملہ ہے۔ مسلم ممالک کا اتحاد فلسطین کے معاملے پر اپنا دو ٹوک موقف دے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام چل نہیں پارہا ، یہ سسٹم نااہلی کا شاہکار ہے۔ اس نظام میں تعلیم، صحت اور انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، لوگوں کو ان کا حق نہیں مل رہا۔ پورا نظام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے بلدیاتی اور عام انتخابات میں فراڈ الیکشن ہوئے۔ ملک میں آئین کی بالادستی قائم ہونی چاہیے۔ ملک میں مہنگائی نے عام شہری کا جینا محال کردیا ہے ۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنا مہنگائی کا سبب ہے۔ پیٹرول لیوی کی مد میں 8 ہزار ارب روپے وصول کیے گئے ہیں، لیکن عوام پر ایک ارب بھی خرچ نہیں ہوئے۔ لوگوں کی جیبوں پر ٹیکس کی مد میں ڈاکا ڈالا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن کا بوجھ مڈل کلاس شہری برداشت کررہا ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے۔ ایف بی آر میں 25 ہزار ملازمین کا عملہ تعینات ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 7 اگست کو پورے پاکستان میں لوگ سڑکوں پر نکلے۔ جب بھی عام آدمی کی بات کی جاتی ہے تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہمارا مقصد بدامنی کرنا نہیں ہے، دوران احتجاج ایمبولینسز کو راستہ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم منظم جدوجہد کرتے ہیں۔ 16 اگست کو چاروں صوبوں کے گورنر ہاؤسز اور لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا کریں گے۔ پرامن طریقے سے جدوجہد کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ڈاکٹر سمعیہ کے ٹوئٹ نے نظام کا کچا چٹھا کھول دیا۔ بینظیر شہید کے قاتلوں کو زرداری صاحب بے نقاب نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کے بحری قزاقوں کے ہاتھوں 10 شہری یرغمال ہیں، لیکن وفاقی حکومت کچھ نہیں کرسکی۔ ہم نے حکومتی دروازے کھٹکھٹائے ہیں لیکن کوئی رسپانس نہیں ملا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین سے ماورا کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔ آئین کے مطابق اور عوامی رائے سے جو نئے یونٹس بن سکتے ہیں تو بننے چاہیے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *