کراچی میں میر رضا کی لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنیوالے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر اسامہ سے تفتیش
کراچی: نوجوان تاجر میر رضا کی لاش کا ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکولیگل افسر ڈاکٹر اسامہ سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے ڈاکٹر اسامہ سے پانچ گھنٹے سے زائد پوچھ گچھ کی، جس کے دوران پہلے پوسٹ مارٹم سے متعلق سامنے آنے والے شکوک و شبہات پر تفصیلی سوالات کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کو آئندہ بھی تفتیش میں تعاون جاری رکھنے کا پابند کیا گیا ہے۔
دوسری جانب میر رضا قتل کیس کے وکیل جبران ناصر نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ تفتیشی ٹیم میں شامل پولیس افسران کو تحقیقات مکمل ہونے تک حساس عہدوں سے ہٹانے کے ساتھ معطل بھی کیا جائے۔
خط میں میر رضا کے والد کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دیے جانے کے باوجود تحقیقات اب بھی قتل کے بجائے خودکشی کے سابقہ مؤقف کے گرد گھوم رہی ہیں۔ ان کے مطابق سابقہ تفتیشی ٹیم کی مبینہ غفلت اور تفتیشی ریکارڈ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔
جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ ڈی آئی جی ایسٹ، ایس ایس پی ایس آئی یو، ایس ایس پی ایسٹ سمیت دیگر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں اور وزیراعلیٰ سندھ ذاتی طور پر کیس کی تفتیش کی نگرانی کریں۔