غزہ کے 70 فیصد علاقے سے آبادی نکال چکے، فوج کارروائی مکمل کرنے کو تیار ہے: اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ کی آبادی کے انخلا سے متعلق منصوبے کا ایک بار پھر ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے سے فلسطینی آبادی کو بے دخل کرچکا ہے جبکہ اسرائیلی فوج باقی ماندہ کارروائی مکمل
کرنے کے لیے تیار ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنے سکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور اس کا مقصد 7 اکتوبر جیسے حملے کے دوبارہ رونما ہونے کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل آبادی کو زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے غزہ سے باہر منتقل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس معاملے میں امریکا کے فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکا اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ غزہ میں موجود تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کو کہاں منتقل کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اس منصوبے کو رضاکارانہ انخلا قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فلسطینی اپنی مرضی سے غزہ چھوڑ سکیں گے۔
اسرائیل کاٹز نے اپنے تازہ بیان میں ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان سے کہا کہ اگر وہ حماس کے ارکان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ترکیے منتقل کردیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر اردوان غزہ میں موجود اپنے بھائیوں کی مدد کے خواہش مند ہیں تو انہیں انطالیہ منتقل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں، کیونکہ اسرائیلی سیاحوں کی عدم موجودگی کے باعث وہاں کافی جگہ موجود ہے۔
اسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے سکیورٹی مقاصد کے حصول کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ 7 اکتوبر کو پیش آنے والا خطرہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔