عمران خان کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، پی ٹی آئی
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ، ڈاکٹر بابر اعوان اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے آنے والی خبریں تشویشناک ہیں، موجودہ صورتحال برداشت سے باہر ہوچکی ہے اور اس وقت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ کوئی بات اہم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے مزید کھلواڑ نہیں کرنے دیا جائے گا، جو سلسلہ اب شروع کرنے جا رہے ہیں وہ رکے گا نہیں، ملک کا نظام تباہ ہوچکا ہے اور اسی نظام کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی قید ہیں جبکہ لوگوں کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ کے لیے اہم اعلانات کیے جائیں گے، 27 ستمبر زیادہ دور نہیں اور اس سے قبل بھی بہت اہم ایونٹس ہوں گے، پی ٹی آئی پیچھے نہیں ہٹے گی اور کارکن قیادت کو ثابت قدم پائیں گے۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سابق وزیراعظم پر اتنے مقدمات بنائے گئے ہیں کہ حکومت کو خود ان کی مکمل تفصیلات کا علم نہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک روپے کی کرپشن کا مقدمہ بھی نہیں ہے اور موجودہ نظام کریش ہوچکا ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ نظام چلانے والے بھی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں اور ایک فرضی نظام میں ہارے ہوئے لشکر کو قوم پر مسلط کیا گیا ہے، لوگوں کو مزید نہ آزمایا جائے ، بانی پی ٹی آئی کے خلاف ’’محمد مرسی ماڈل‘‘ نہیں چلنے دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہاں ملزم کو جج نظر نہیں آتے تھے جبکہ یہاں واٹس ایپ پر ٹرائل ہورہا ہے، ایسا ظلم نہیں چلنے دیں گے،آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت جرم کتنا ہی بڑا ہو، ملزم کو وکیل تک رسائی حاصل ہوتی ہے، بانی پی ٹی آئی تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی ڈٹے ہوئے ہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونے دیا جائے گا، جیل رولز اور منڈیلا رولز کے تحت قیدی کو ڈاکٹرز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے معاملے پر ایکشن لینے اور اپنی ذمہ داری نبھانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کس حالت میں ہیں۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے موجودہ حکومتی نظام پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انصاف کا ترازو تھانے دار کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور مختلف ادارے تباہ ہوچکے ہیں، سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا گیا اور کوئی شعبہ ایسا نہیں جو تباہ نہ ہوا ہو۔
بابر اعوان کا کہنا تھا کہ کوئی ادارہ آئین کے مطابق نہیں چل رہا، نظام اور انتظام کرنے والے ناکام ہوچکے ہیں، ملک کو ایسے حالات کی طرف لے جایا گیا ہے جہاں ’’مس ایڈونچر‘‘ کا خدشہ موجود ہے۔